پلڈاٹ کنسلٹنگ اور انسٹیٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پی او آر) کے زیر اہتمام منعقدہ سٹیزنز راؤنڈ ٹیبل میں پاکستان کا اپنی نوعیت کا پہلا اور سب سے بڑا رائے عامہ کا جائزہ “نیشنل سٹیزن سروے 2026” جاری کر دیا گیا ہےجس نے شہریوں کی بنیادی ضروریات اور ریاستی اخراجات کے درمیان موجود گہری خلیج کو واضح طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ اس تقریب میں اکادمی، عدلیہ، وکلاء برادری، تھنک ٹینکس اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے نامور ماہرین نے شرکت کی۔
سروے کے نتائج کے مطابق بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ملک بھر کے شہریوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہیں جہاں 19 فیصد عوام اسے ملک کا نمبر ایک چیلنج قرار دیتے ہیں۔
رپورٹ میں ظاہر کیا گیا ہے کہ وفاقی بجٹ کا 42.9 فیصد صرف قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس صحت کے شعبے کے لیے محض 0.1 فیصد رقم مختص کی گئی ہے جو قرضوں کی ادائیگی کے مقابلے میں 400 گنا کم ہے۔
حکومتی اور سرکاری اداروں میں کرپشن اور عدم اعتماد کا عنصر بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ سروے کے مطابق 18 فیصد یعنی تقریباً ہر پانچ میں سے ایک شہری نے اعتراف کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کسی سرکاری اہلکار نے ان سے رشوت طلب کی۔
اس کے علاوہ 91 فیصد شہریوں نے ملک میں نیا کاروبار شروع کرنے یا چلانے کو انتہائی مشکل قرار دیا اور اس کی سب سے بڑی وجہ موجودہ ٹیکس نظام کو ٹھہرایا۔ اداروں پر اعتماد کے حوالے سے پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن اور ایف بی آر جیسے اہم ادارے اکثر شہریوں کا کامل اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے تاہم اے ایف آئی اے پر 33 فیصد اور نیب پر 23 فیصد کے ساتھ نسبتاً زیادہ عوامی اعتماد دیکھا گیا جبکہ پارلیمنٹ پر صرف 15 فیصد اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ پر محض 13 فیصد شہریوں نے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
میڈیا، معیشت اور سماجی اقدار سے متعلق اعداد و شمار بھی انتہائی اہم ہیں۔ 42 فیصد شہری اب خبروں کی رسائی کے لیے ٹیلی ویژن کے بجائے سوشل میڈیا کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن دوسری جانب 56 فیصد عوام انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو سماجی و اخلاقی اقدار میں تنزلی کا بنیادی ذمہ دار بھی سمجھتے ہیں۔ 79 فیصد شہریوں نے منشیات کے بڑھتے استعمال کو انتہائی خطرناک، جبکہ 66 فیصد نے ملک پر بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ کو شدید تشویشناک قرار دیا۔ 60 فیصد افراد کے مطابق پاکستان کا تعلیمی نظام جدید معاشی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے، اور 68 فیصد عوام آئی ایم ایف پروگراموں کو عام آدمی کے لیے نقصان دہ یا بے فائدہ سمجھتے ہیں۔ مزید برآں، 43 فیصد شہری غیر ملکی فنڈڈ این جی اوز اور تھنک ٹینکس کی رپورٹس کو حقائق کے برعکس یا بیرونی ایجنڈے کا حصہ تصور کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد:انسداد دہشت گردی عدالت کا وزیراعلی سہیل آفریدی سمیت24اراکان اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم
یہ ملک گیر سروے 23 اگست سے 5 ستمبر 2026 کے دوران 5,155 بالغ شہریوں کے ساتھ کیے گئے براہِ راست انٹرویوز پر مبنی ہے، جس میں چاروں صوبوں، دیہی اور شہری آبادی اور تمام آمدنی و عمر کے گروہوں کی متناسب نمائندگی شامل ہے۔ سروے کی ڈیزائننگ اور فیلڈ ورک کی تمام تر ذمہ داری آئی پی او آر نے خودستختار طور پر نبھائی، جبکہ پلڈاٹ کنسلٹنگ نے رپورٹ کے عوامی اجراء اور سٹیزنز راؤنڈ ٹیبل کی قیادت کی۔ راؤنڈ ٹیبل کی نشست میں پلڈاٹ کنسلٹنگ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مامون بلال، آئی پی او آر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر طارق جنید، پائڈ کی چیف اکانومسٹ ڈاکٹر ارم بتول اور نمل یونیورسٹی کے پروفیسر اشرف انصاری نے نتائج پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شہریوں کی واقعی ترجیحات، اداراتی جوابدہی اور بجٹ کی منصفانہ تقسیم ہی ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔





