سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی ذیلی کمیٹی نے ملک میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل کالجوں کے داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارش کر دی ہے۔
سینیٹر انوشہ رحمان کی کنوینرشپ میں سینیٹر ثمینہ زہری اور سینیٹر جہانزیب پر مشتمل ذیلی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں میڈیکل کالجوں کے داخلوں میں ایک ہی امتحان پر طالب علموں کے انحصار اور شدید دباؤ کو کم کرنے پر زور دیا ہے۔
تجویز دی گئی ہے کہ ایم ڈی کیٹ کو سال میں دو مرتبہ منعقد کروایا جائے تاکہ ناکامی کی صورت میں کسی طالب علم کا پورا سال ضائع نہ ہو۔ اس کے علاوہ داخلہ فارمولے میں ایم ڈی کیٹ کی موجودہ 50 فیصد ویٹیج کو کم کر کے 30 فیصد کرنے پر غور کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
کمیٹی نے ایم ڈی کیٹ میں نیگیٹو مارکنگ متعارف کرانے، نتائج کو تین سال تک قابلِ استعمال رکھنے اور متنازع یا غلط سوالات کے ازالے کے لیے باقاعدہ شکایتی اور ریویو نظام قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
ایف ایس سی اور کیمبرج کے طلبہ کے لیے نظام کو منصفانہ بنانے کی غرض سے نصاب کی تیاری میں او اور اے لیولز اور آئی بی سسٹم کے ماہرین کو شامل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو نجی اکیڈمیوں پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
کمیٹی نے میڈیکل کالجوں کی نشستوں اور امیدواروں کی شرح پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں تقریباً 1 لاکھ 69 ہزار 520 امیدواروں میں سے صرف 16 ہزار 648 پاس ہو سکے جبکہ ملک میں میڈیکل اور ڈینٹل کی مجموعی نشستیں تقریباً 22 ہزار 300 تھیں۔
کمیٹی نے پاس ہونے والے امیدواروں کی تعداد نشستوں سے کم ہونے کو پالیسی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے میڈیکل نشستوں میں اضافے کے لیے پانچ سالہ منصوبہ بنانے اور بالخصوص بلوچستان اور آزاد کشمیر کے پسماندہ علاقوں میں طبی تعلیم کے مزید مواقع پیدا کرنے کی سفارش کی ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ حالیہ برسوں میں 40 ہزار سے زائد اہل پاکستانی ڈاکٹر بیرونِ ملک منتقل ہو چکے ہیں۔ ذیلی کمیٹی نے ملک میں ڈاکٹروں کی اشد ضرورت کے باوجود میڈیکل تعلیم کے مواقع محدود رکھنے کی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے نجی میڈیکل کالجوں کی بھاری فیسوں کا جائزہ لینے اور مستحق طلبہ کی مالی معاونت بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ،نوٹیفکیشن جاری
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو زیادہ شفاف اور جوابدہ بنانے، فوری شکایتی نظام اور ہنگامی یا قدرتی آفات سے متاثرہ اضلاع کے طلبہ کے لیے ایک مستقل ریلیف میکنزم تشکیل دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ پورا نظام میرٹ اور ملک کی حقیقی طبی ضروریات کے مطابق ہو سکے۔





