کوہاٹ میں تاجروں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو احتجاج سے روکا جائے، وزیر اطلاعات

کوہاٹ میں تاجروں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو احتجاج سے روکا جائے، وزیر اطلاعات

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کوہاٹ میں تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کو احتجاج سے روکا جائے، کیونکہ احتجاج کی وجہ سے تمام کاروبار رک جاتا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےوفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج کی اصطلاح پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ڈکشنری میں موجود نہیں، عمران خان کی بہنوں کو مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر نظر بند کیا گیا۔

مذاکرات کی بات کرنے والے بتائیں پی ٹی آئی میں فیصلہ ساز کون ہے، حکومت کس سے بات کرے، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پرامن ہونے کی ضمانت کون دے گا، جو لوگ اسلحے، ڈنڈوں اور غلیلوں سے لیس ہوکر آتے ہیں، وہ پرامن کیسے ہوسکتے ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ انہوں نے آج تک پی ٹی آئی کو پرامن احتجاج کرتے نہیں دیکھا، ان کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاج کا کوئی جواز نہیں۔ آج خیبرپختونخوا میں ٹوٹی سڑکوں کے سوا کچھ نہیں ہے، اس لیے سیاست ہوتی رہے گی، لیکن خدارا اپنے صوبے کو سنبھالیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ یہ پرامن لوگ نہیں ہیں، اور یہ پرامن احتجاج نہیں کرتے، ان کے احتجاج سے تاجروں اور صنعتوں کو جو نقصان ہوگا، وہ کون پورا کرے گا؟مسلم لیگ ن کے احتجاج میں کبھی 126 دن دھرنا دے کر شہر بند نہیں کیا گیا اور نہ ہی دھرنا دے کر چین کے صدر کا دورہ روکا گیا۔

 یہ بھی پہڑھیں: ‏جنید اکبر کے اشتعال انگیزبیانات اور اسلام آباد کو تباہ کرنے کی دھمکی، پی ٹی آئی نے پرتشدد واقعات کا آغاز کر دیا

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے کے لیے پاک سیکریٹریٹ کو بلاک نہیں کرنے دیا جائے گا،وفاقی وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے صوبے میں احتجاج کریں اور پشاور کو بند کریں، یہ کیا بات ہوئی کہ آپ آتے ہیں اور اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہیں۔

Scroll to Top