پی ٹی آئی کارکن صرف سوشل میڈیا کی حد تک فعال ہیں،میدان میں نظر نہیں آتے، حماد حسن

پی ٹی آئی کارکن صرف سوشل میڈیا کی حد تک فعال ہیں،میدان میں نظر نہیں آتے، حماد حسن

سینئر تجزیہ کار حماد حسن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ایک واٹس ایپ گروپ میں اراکینِ اسمبلی نے شدید گلہ کیا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ سے رابطے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وزیراعلیٰ نہ تو فون اٹینڈ کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی جواب دیتے ہیں۔

پختون ڈیجیٹل پر ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئےحماد حسن کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن صرف سوشل میڈیا کی حد تک فعال ہیں جبکہ عملی میدان میں بالکل غیر فعال ہیں، 26 نومبر تک پی ٹی آئی کا کارکن یہی سمجھتا رہا کہ وہ اب بھی لاڈلے ہیں اور دورِ حکومت 2018 یا 2020 والا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ابھی تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ زمینی حالات یکسر بدل چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشتگردی کے ایک بڑے واقعے کے بعد ہونے والی نمازِ جنازہ میں شرکت کرنا وزیراعلیٰ کی پہلی ذمہ داری تھی، خاص طور پر جب یہ جنازہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب ہی ادا کیا گیا اور وہاں وفاقی وزیر داخلہ، گورنر خیبر پختونخوا، کور کمانڈر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیراعلیٰ کا اس طرح جنازے سے غائب رہنا دہشتگردی کے ایسے واقعات سے لاتعلقی کا اظہار نہیں ہے؟ اس موقع پر وزیراعلیٰ کا یہ عذر سامنے آیا کہ وہ لاہور میں عمران خان کی بہنوں کو ریسکیو کرنے جا رہے تھے، حالانکہ پنجاب میں مریم نواز کی حکومت ہے اور وہاں ان کا حکم چلتا ہے۔

تجزیہ کار نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ کیا وزیراعلیٰ کو معلوم بھی ہے کہ وہ کتنے خطرناک اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

پوڈ کاسٹ میں مزید گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے اندر معاملات کس قدر ابتر ہو چکے ہیں، تین دن قبل جنرل سیکرٹری ارباب شیر علی نے ایک اجلاس طلب کیا تھا جو میٹنگ سے ایک دو گھنٹے قبل منسوخ کر دیا گیا۔

حماد حسن کے مطابق پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ اس وقت پارلیمانی پارٹی یا صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب نہ کیا جائے کیونکہ اگر وہ گھروں سے نکلے اور گرفتار ہوئے تو سوشل میڈیا پر یہ تاثر ابھرے گا کہ یہ سب فرمائشی گرفتاریاں ہیں، اس کے باوجود دوپہر تین بجے پارلیمانی پارٹی اور شام سات بجے اسمبلی کا اجلاس بلا لیا گیا۔

حماد حسن کا تجزیہ تھا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں میں وہ حوصلہ اور سکت نظر نہیں آتی جو دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں پائی جاتی ہے۔،

Scroll to Top