پشاور: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تعمیر و ترقی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، صوبے میں ساڑھے 12 سال سے ایک ہی حکومت موجود ہے لیکن اس کے باوجود ترقی کا فقدان ہے۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا کے دورے کا آغاز کوہاٹ سے کیا، یہ صوبہ غیور عوام کی دھرتی ہے۔ انہوں نے کوہاٹ واقعے کے زخمیوں اور شہدا کے لواحقین سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حوصلے بلند تھے۔ شہید پولیس کانسٹیبل فہیم اللہ کے والد نے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پشاور پریس کلب کی دنیا میں منفرد حیثیت ہے، جبکہ پشاور کے صحافیوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے میڈیا ورکرز اور صحافیوں کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا اور شہید و دورانِ سروس وفات پانے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق شہدا کے لواحقین پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، جبکہ پشاور کے صحافیوں کے لیے ہیلتھ انشورنس کا اجرا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور پریس کلب کی قومی بیانیے کے حوالے سے متوازن پالیسی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی کے پاس دھرنے کی تیاری کا وقت ہے، شہداء کے خاندانوں کے لیے نہیں،ان کا مقصد صرف جلاؤ گھیراؤ ہے ،عطا تارڑ
انہوں نے بتایا کہ 9 مئی کو نذر آتش کی جانے والی ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت وزیراعظم کی ہدایت پر مکمل طور پر فعال کردی گئی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے دروازے صحافیوں کے لیے کھلے ہیں اور پشاور کے صحافی یہاں اسٹوڈیوز میں پوڈ کاسٹ اور وی لاگ ریکارڈ کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوڈ کاسٹ اسٹوڈیوز سمیت دیگر اسٹوڈیوز بھی صحافیوں کے لیے دستیاب ہونے چاہئیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عبداللہ جان مرحوم نے ریڈیو پاکستان پشاور سے قیام پاکستان کا اعلان پشتو زبان میں کیا تھا، جبکہ ریڈیو پاکستان آج بھی معلومات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ صحافیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں امیر جماعت اسلامی نے لانگ مارچ مؤخر کرنے کے حوالے سے مشاورت کرنے کا کہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عدالتی حکم کی تعمیل: پی ٹی آئی مارچ کے لیے خیبرپختونخوا پولیس کی معاونت پر مکمل پابندی عائد، آئی جی آفس سے مراسلہ جاری
انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشوں کو رعایتی نرخوں پر پٹرول فراہم کیا جارہا ہے اور عوام کو اربوں روپے کا ریلیف دیا جارہا ہے۔
وفاقی وزیر نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے حوالے سے کہا کہ ان کے پاس نہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اور نہ ہی اس پر عملدرآمد کا اختیار، یہ معلوم نہیں کہ فیصلہ سازی کا اختیار کس کے پاس ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سرکاری وسائل عوام کے لیے ہیں، احتجاجوں کے لیے نہیں۔ ان کے مطابق حکومت کسی کو امن و امان میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز بھی واضح کیا تھا کہ کسی بھی پرتشدد گروہ کو اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کرنے دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ انسداد دہشتگردی کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے تحت ہر سال خیبر پختونخوا حکومت کو حصہ دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق این ایف سی کے آغاز کو 16 سال ہوچکے ہیں، بتایا جائے کہ امن و امان کے لیے مختص اربوں روپے کہاں خرچ کیے گئے۔





