مجوزہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 قانونی تنازع کا شکار، پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاریاں

خیبرپختونخوا کابینہ سے منظور ہونے والے نئے پولیس ایکٹ 2026 کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق فی الوقت اس مسودے کی کوئی باقاعدہ قانونی حیثیت یا نفاذ نہیں ہے اور اسے قانون بننے کے لیے طویل آئینی و قانونی مراحل سے گزرنا ہوگا۔

قانونی ماہرین کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد اس مسودے کو پہلے خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش کر کے پاس کرانا ہوگا جس کے بعد یہ حتمی منظوری کے لیے گورنر خیبرپختونخوا کو بھیجا جائے گا۔ آئینی طریقہ کار کے تحت گورنر کے پاس توثیق کے لیے 15 دن اور پھر مزید 10 دن کا وقت ہوتا ہےاور گورنر کی منظوری کے بعد ہی صوبائی حکومت اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر سکے گی۔

دوسری جانب اس قانون سازی کو شدید آئینی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ رواں سال فروری کو 31 اکتوبر 2024 کے اسی نوعیت کے ایک سابقہ نوٹیفکیشن کو پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایمل ولی خان کا خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترمیم پر شدید ردعمل

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی موجودگی میں نیا نوٹیفکیشن جاری کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اسی تناظر میں پشاور ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے کی روشنی میں اس نئے ایکٹ کے خلاف ایک اور آئینی درخواست (رٹ پٹیشن) دائر کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

Scroll to Top