سہیل آفریدی لانگ مارچ کے ذریعے خود کو سیاسی شہید بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، سینئر تجزیہ نگارحماد حسن

سہیل آفریدی لانگ مارچ کے ذریعے خود کو سیاسی شہید بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، سینئر تجزیہ نگارحماد حسن

سینئر تجزیہ کار حماد حسن نے تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں سے ایک اہم خبر کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے مبینہ طور پر ہٹائے جانے کا اشارہ ملنے کے بعد سہیل آفریدی نے سخت قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

حماد حسن کے مطابق کچھ عرصہ قبل جب عمران خان کو پمز ہسپتال لایا گیا تھا، تو وہاں ان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان سے ایک اہم تنہائی میں ملاقات ہوئی تھی، اس ملاقات میں مبینہ طور پر عمران خان نے عظمیٰ خان کے ذریعے سہیل آفریدی کو سخت پیغام بھجوایا تھا اور نئے وزیر اعلیٰ کے لیے بھی تیاری کرنے کی ہدایت دی تھی۔

سینئر تجزیہ کار نے بتایا کہ سہیل آفریدی کو اس بات کا مکمل علم ہو چکا ہے کہ پارٹی قیادت اور عمران خان ان سے ناخوش ہیں اور انہیں عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ علی امین گنڈاپور جیسے قریبی اور مضبوط قد کاٹھ کے رہنما کو جب ہٹایا جا سکتا ہے تو ان کا ہٹایا جانا بھی طے ہے۔

حماد حسن کے مطابق، یہی وجہ ہے کہ سہیل آفریدی نے یہ سوچ لیا ہے کہ جب انہیں ہٹایا ہی جا رہا ہے تو کیوں نہ وہ خاموشی سے گھر بیٹھنے کے بجائے لانگ مارچ کا راستہ اختیار کریں، وہ اس لانگ مارچ کے ذریعے خود کوسیاسی شہیدبنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے لیے انہوں نے مبینہ طور پر پوری پارٹی کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔

سینئر تجزیہ کار حماد حسن نےکہاکہ پارٹی حلقوں میں اس وقت مینا خان آفریدی کا نام بہت زیادہ زیرِ بحث ہے، اگر تنظیمی حوالے سے سہیل آفریدی اور مینا خان آفریدی کا موازنہ کیا جائے تو مینا خان ہر سطح پر سینیئر رہے ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ جب مینا خان پشاور یونیورسٹی کے آئی ایس ایف صدر تھے، تو سہیل آفریدی جنرل سیکرٹری تھے، اسی طرح ڈسٹرکٹ اور ریجنل صدر کے عہدوں پر بھی مینا خان سینیئر رہے ہیں جبکہ سہیل آفریدی ان کے ماتحت یا نائب کے طور پر کام کرتے رہے ہیں، اس کے برعکس سہیل آفریدی کا رویہ قدرے بچگانہ اور ضدی ہے۔

حماد حسن کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی اپنے حق میں بات کرنے والے یوٹیوبرز کو صحافی مانتے ہیں لیکن اختلاف کرنے والے معتبر صحافیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں لفافہ ٹاؤٹ کہتے ہیں۔

Scroll to Top