فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آمدن اور اس پر عائد ٹیکس کے حساب کے لیے نئے قواعد جاری کر دیے ہیں۔
ایف بی آر کی جانب سے 23 ستمبر کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشنز کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 99، ’اسپیشل پراسیجر‘ کے تحت سوشل میڈیا کے ذریعے آمدن کمانے والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
نئے قواعد کے تحت کسی بھی مالی سال کے دوران سوشل میڈیا مواد سے حاصل ہونے والی آمدن کا تعین کرنے کے لیے مجموعی معاوضے میں سے زیادہ سے زیادہ 30 فیصد اخراجات منہا کرنے کی اجازت ہوگی۔
ایف بی آر کے مطابق مجموعی آمدن کا حساب لگانے کے لیے دو طریقہ کار وضع کیے گئے ہیں۔ پہلے طریقہ کار کے تحت آر پی ایم کو مجموعی ویوز سے ضرب دے کر حاصل ہونے والی رقم کو ایک ہزار پر تقسیم کیا جائے گا۔
دوسرے طریقہ کار کے تحت سوشل میڈیا مواد کے عوض نقد یا غیر نقد صورت میں موصول ہونے والے اصل معاوضے کو آمدن تصور کیا جائے گا۔ ایف بی آر کے مطابق دونوں طریقوں سے حاصل ہونے والی رقوم میں سے جو رقم زیادہ ہوگی، اسی کو قابلِ وصول آمدن تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب نے صارفین کی پرائیویسی مزید محفوظ بنا دی، نیا فیچر متعارف
آر پی ایم سے مراد یوٹیوب پر شیئر کی جانے والی ویڈیو کے ہر ایک ہزار ویوز پر حاصل ہونے والی کل آمدن ہے۔ وفاقی ادارے نے رواں سہ ماہی کے لیے آر پی ایم کی شرح 195 روپے مقرر کی ہے۔





