پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب تجویز کردہ اپنا لانگ مارچ مؤخر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد اب یہ مارچ 5 اکتوبر کو کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے التوا کی بنیادی وجہ وفاقی حکومت کی موثر اور سخت حکمت عملی کے ساتھ ساتھ عوام کی جانب سے ظاہر کی جانے والی عدم دلچسپی ہے جس کے باعث تحریک انصاف کی قیادت کو ناکامی کے خدشات کے پیش نظر اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کا التوا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت کا اصل مسئلہ دہشت گردی سے مکمل لاتعلقی اور دہشت گردی کی سہولت کاری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام روزانہ اپنے خون سے دہشت گردی کی قیمت ادا کر رہے ہیں مگر صوبائی حکومت کی ترجیحات میں عوام کا تحفظ کہیں نظر نہیں آتا۔ وزیر اعلیٰ نے آج تک شمالی و جنوبی وزیرستان، مہمند اور اورکزئی جیسے شدید متاثرہ اضلاع کا دورہ کیا اور نہ ہی شہداء کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ پورے دور حکومت میں صرف ایک رسمی اپیکس کمیٹی اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ اس حکومت کے ایجنڈے پر شامل ہی نہیں۔
تجزیہ کاروںنے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب شہداء کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوتی ہےپی ٹی آئی کی قیادت سیاسی جلسوں اور ناکام لانگ مارچ کی منصوبہ بندیوں میں مصروف رہتی ہے۔ فتنہ الخوارج کے خلاف واضح بیان نہ دینا اور پولیس فورس کی صلاحیت کو کمزور کرنے والے اقدامات کرنا دانستہ لاتعلقی ہے۔ لانگ مارچ ملتوی ہو یا جاری رہےاصل سوال یہی ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری آخر کون لے گا۔





