بین الاقوامی امور کے ماہر تجزیہ کار اور اسکالر احمد حسن العربی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی مسلسل حکومتوں اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی )کے درمیان انتہائی تشویشناک روابط موجود رہے ہیں۔
موجودہ صوبائی انتظامیہ امن و امان کے قیام کی بجائے ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے کی تکمیل اور ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت کو ہوا دے رہی ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی تفصیلی پوسٹ میں احمد حسن العربی نے ایک حیران کن اعداد و شمار کی جانب اشارہ کیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جب پرویز خٹک خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ تھے، تو ان کا آبائی حلقہ نوشہرہ مبینہ طور پر کالعدم ٹی ٹی پی کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا رہا۔
اسی طرح جب محمود خان نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالا تو ان کا حلقہ مٹہ، سوات دہشتگردوں کا گڑھ بن گیا۔ بعد ازاں علی امین گنڈا پور کے دور میں ڈیرہ اسماعیل خاندہشتگردی کی کارروائیوں کا مرکز بنا رہا۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پرویز خٹک کے دور میں نوشہرہ، محمود خان کے دور میں مٹہ سوات اور علی امین گنڈاپور کے دور میں ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی سے متعلق واقعات خبروں کا حصہ بنتے رہے۔موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حوالے سے تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے حلقے میں دہشتگردی کے ساتھ منشیات سے متعلق سرگرمیوں کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔
تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق اس متن میں فراہم نہیں کی گئی۔تجزیے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ترجیحات پر بھی تنقید کی گئی ہے اور الزام عائد کیا گیا ہے کہ صوبے میں امن و امان اور عوام کے تحفظ کے بجائے سیاسی وابستگی کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ارکان اسمبلی کی گرفتاری سے متعلق خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ کا آئی جی کو اہم مراسلہ
تحریر میں سہیل آفریدی کے بعض بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں سیاسی کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیا گیا ہے، جبکہ یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی، پولیس اور سکیورٹی اداروں کی استعداد بڑھانے اور صوبے میں امن و امان کے قیام پر زیادہ توجہ درکار ہے۔
کوہاٹ کے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے تجزیے میں دعویٰ کیا گیا کہ مرکز، پنجاب اور دیگر علاقوں سے حکام اور نمائندے خیبر پختونخوا پہنچے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس دوران پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔
تحریر میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ہٹانے سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری بحث کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف کی رائے میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے بہتری کا باعث ہوسکتی ہے۔
تجزیے کے اختتام پر سہیل آفریدی کی انتظامی کارکردگی، سیاسی ترجیحات اور امن و امان سے متعلق اقدامات پر مزید سوالات اٹھاتے ہوئے ان کے عہدے سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔





