خیبرپختونخوا سمبلی میں قانون سازی کی آڑ میں اراکین کو غیر معمولی اختیارات دینے کا انکشاف

خیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے ارکانِ اسمبلی کو غیر معمولی اور غیر جمہوری اختیارات دینے کا انکشاف ہوا ہے جس کے تحت انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریاستی وسائل پر سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

دیگر صوبائی اسمبلیوں کے برعکس خیبرپختونخوا اسمبلی میں کی جانے والی ان ترامیم کو اختیارات کے بے جا استعمال اور ایگزیکٹو امور پر قبضے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسمبلی ترمیم کے مختلف سیکشنز کے ذریعے طاقت کے توازن اور انتظامی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا گیا ہے۔

ترمیم کے تحت ارکانِ اسمبلی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے حلقے کے کسی بھی ضلعی افسر کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دے سکتے ہیں، اور افسران اس طلبی کے پابند ہوں گے۔ ملک کی کسی دیگر اسمبلی میں ارکان کے پاس ایسا اختیار موجود نہیں ہے۔ اس شق کو بیوروکریسی پر سیاسی دباؤ قائم کرنے اور انتظامی امور میں مداخلت کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

گورنر یا وزیر کی عدم موجودگی میں تمام سرکاری محکموں، انتظامی اداروں اور خود مختار باڈیز کے اجلاسوں کی صدارت کا اختیار رکنِ اسمبلی کو سونپ دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم ایگزیکٹو کے دائرہ اختیار میں مداخلت اور اختیارات کی تقسیم کے بنیادی جمہوری اصول کی خلاف ورزی ہے۔

ترمیم کے تحت پولیس کسی بھی رکنِ اسمبلی کی گرفتاری سے قبل اسپیکر کی پیشگی اجازت لینے کی پابند ہوگی، جبکہ چالان پیش کرنے سے پہلے اسپیکر خود انکوائری کا حکم بھی دے سکتا ہے۔ عام طور پر اسپیکر کا اختیار صرف اسمبلی حدود تک محدود ہوتا ہے، تاہم اس ترمیم کے ذریعے اسپیکر کے عہدے کو ارکان کے خلاف فوجداری و احتسابی کارروائیوں میں ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : موٹروے اٹک پل سے رکاوٹیں ہٹانے اور ٹک ٹاک بنانے والے 8 پی ٹی آئی کارکنان پنجاب پولیس نے گرفتار کرلئے

صوبے کے شدید مالی بحران کے باوجود رکنِ اسمبلی اور اس کے شریکِ حیات کو تاحیات مفت پاسپورٹ فراہم کرنے کی مراعات شامل کی گئی ہیں۔

Scroll to Top