مری کے علاقے لوئر موہڑا بڑاہوتر کے قریب گزشتہ روز پیش آنے والے اسکول وین حادثے میں زخمی ہونے والی 14 سالہ عائشہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئی۔
عائشہ حادثے میں سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی اور اس کا جسم تقریباً 42 فیصد جھلس گیا تھا۔ اسے تشویشناک حالت میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا، جہاں دوران علاج اس کی موت واقع ہوگئی۔
عائشہ کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہوگئی، جبکہ اہل علاقہ نے مری میں برن یونٹ قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ایسے حادثات کی صورت میں زخمیوں کو فوری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
حادثے کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ اسکول کے بچوں کو لے جانے والی وین لوئر موہڑا بڑاہوتر کے قریب حادثے کا شکار ہوئی، جس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے میں 10 بچے اور ڈرائیور جھلس کر زخمی ہوئے تھے۔
مری میں وین میں آگ لگنے کا دوسرا واقعہ
مری میں موسم گرما کے دوران وین یا گاڑی میں آگ لگنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 10 جون کو مری کے علاقے کھجٹ میں ملتان سے آنے والے سیاحوں کی گاڑی میں آگ لگ گئی تھی، جس کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق جبکہ 13 شدید زخمی ہوئے تھے۔
ڈپٹی کمشنر مری آغا ظہیر عباس شیرازی نے لوئر موہڑا بڑاہوتر حادثے کے بعد بتایا تھا کہ واقعے میں 10 بچے جھلس کر زخمی ہوئے، جن میں سے چار بچوں کو ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا۔
بیٹری کی اسپارکنگ سے آگ لگنے کی ابتدائی رپورٹ
حادثے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق اسکول وین میں بیٹری کی اسپارکنگ کے باعث آگ لگی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گاڑی میں آگ بجھانے والا آلہ موجود نہیں تھا۔
حادثے کا شکار سوزوکی کیری میں 8 بالغ یا 10 بچوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، تاہم حادثے کے وقت گاڑی میں 11 بچے سوار تھے۔
ڈی پی او مری رضا تنویر نے سی ٹی او مری کو ٹریفک انفورسمنٹ مزید مؤثر بنانے اور اسکول وینز سمیت پبلک ٹرانسپورٹ کی خصوصی چیکنگ کی ہدایت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : مری میں سکول بچوں کی سوزوکی بولان سڑک سے نیچے جاگری، 10 افراد زخمی
انہوں نے اوورلوڈنگ، غیر محفوظ سلنڈرز، گاڑیوں کی فٹنس، روٹ پرمٹ اور ڈرائیورز کے لائسنس کی جانچ پڑتال یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ ڈی پی او مری کے مطابق غیر محفوظ پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف کارروائی کی جائے گی جبکہ ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیورز کو گاڑیوں میں حفاظتی تقاضے مکمل کرنا ہوں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے رپورٹ طلب کرلی
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مری اسکول وین حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی تھی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اوورلوڈنگ اور گاڑی میں مناسب حفاظتی آلات کی عدم موجودگی کا نوٹس لیتے ہوئے اسکول وینز اور دیگر گاڑیوں میں حفاظتی انتظامات کے معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت بھی کی تھی۔
پاکستان میں اسکول وینز میں آتشزدگی اور دیگر حادثات کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، جن میں متعدد طلبہ جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں۔





