مذاکرات کو کامیابی سے پشاور نے دور کردیا، ہر بار آخری وقت پر سب بگاڑ دیا، طلال چوہدری

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما طلال چوہدری نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کی ناکامی سے متعلق اہم دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران چار مرتبہ فریقین کے درمیان مکمل معاہدے پر اتفاق ہوا، تاہم ہر بار حتمی مرحلے پر معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔

طلال چوہدری کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں تمام اہم نکات پر اتفاق رائے پیدا ہوچکا تھا، لیکن پشاور اور خیبر پختونخوا کی اعلیٰ قیادت سے ہدایات موصول ہونے کے بعد پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم طے شدہ نکات پر قائم نہ رہ سکی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کی بنیادی وجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کا معاملہ ہے۔

ان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی واضح یقین دہانی نہ کرائے جانے کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔

طلال چوہدری نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتی۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کے معاملے پر اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم کے رویے سے انہیں مایوسی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم، انسدادِ دہشتگردی پر پی ٹی آئی کا مؤقف بڑی رکاوٹ

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل پاکستان کے استحکام کی جنگ ہے، اس لیے اس معاملے پر تمام سیاسی قوتوں کو تعاون کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کے بغیر دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنا مشکل ہوگا۔

طلال چوہدری نے پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت کی قیادت پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی کی مذاکراتی ٹیم پر پشاور میں موجود قیادت کا اثر ہے۔

انہوں نے بالخصوص وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے کردار پر سوالات اٹھائے اور الزام عائد کیا کہ سیاسی مفادات کو ترجیح دی جارہی ہے۔

Scroll to Top