اسلام آباد: لانگ مارچ کا جنازہ نکل گیا، ’’عوامی سمندر‘‘ کا دعویٰ بے نقاب ہوگیا، سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے کارکنوں کو صبح 9 بجے پہنچنے کی کال کے باوجود مقررہ وقت پر کارکنوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہی، جس سے پی ٹی آئی کے تمام بڑے دعووں پر سوالات اٹھ گئے۔
تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ سے قبل بڑے پیمانے پر عوامی شرکت کے دعوے کیے جاتے رہے، تاہم عملی طور پر مارچ کے آغاز پر وہ گہماگہمی دکھائی نہیں دی جس کا تذکرہ پارٹی قیادت کی جانب سے کیا جا رہا تھا۔
تحریک انصاف کے ذریعے میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا وہ جھوٹا طوفان اور عوامی سمندر کا پروپیگنڈا بالکل زمین بوس ہو چکا ہے جس کے ذریعے وہ ملک کو مفلوج کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔
مارچ کے آغاز پر ہی عوام نے پی ٹی آئی کے اس فتنے اور محاذ آرائی پر مبنی سیاسی ایجنڈے کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے اپنی عدم دلچسپی کا ایسا تھپڑ رسید کیا ہے جس کی گونج دُور دُور تک سنائی دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : صوبے میں لاشیں اٹھ رہی ہیں، پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ پر ڈٹ گئی
تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ لاکھوں کا مجمع سڑکوں پر نکل کر حکومت کو ہلا کر رکھ دے گا، لیکن مارچ شروع ہوتے ہی گلی محلوں، چوراہوں اور شاہراہوں پر سنّاٹا چھا گیا اور ہر طرف خاموشی دکھائی دینے لگی۔
عام شہریوں نے تحریک انصاف کی انتشار پسند سیاست میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا جس کے باعث شو مکمل طور پر فلاپ اور تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی ناکام ڈرامہ بن گیا۔





