سینئر صحافی و تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کا بھانڈا پھوڑ دیا

پشاور:  پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران پارٹی کے اپنے کارکنوں کی جانب سے قیادت اور احتجاج کے انتظامات پر شدید تحفظات سامنے آگئے۔

 سینئرصحافی و تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس، سابق ٹوئٹر، پر ایک پوسٹ میں پی ٹی آئی کارکنوں کے متعدد بیانات اور شکووں کو شیئر کیا ہے، جن میں کارکنوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

 کارکنوں کا کہنا ہے کہ بنوں، کوہاٹ، کرک، ہنگو اور دیگر علاقوں سے لوگ عمران خان کی رہائی اور حقوق کیلئے احتجاج میں شریک ہونے آئے، تاہم انہیں مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں۔

 ایک کارکن نے الزام عائد کیا کہ ہمارا وزیراعلیٰ میک اپ کیلئے گیا ہے جبکہ ایک اور کارکن نے کہا کہ وزیراعلیٰ خود کارکنوں کو چھوڑ کر چھپ گئے ہیں۔ کارکنوں نے مطالبہ کیا کہ قیادت احتجاج میں شریک افراد کے ساتھ بیٹھے اور ان کے مسائل سنے۔

 کارکنوں نے شفیع جان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کیلئے کھانے اور ناشتے کا انتظام نہیں کرسکے۔ بعض شرکاء نے احتجاج میں کارکنوں کی کم تعداد اور سرگرمی نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے۔

یہ بھی پڑھیں : کہاں راجا بھوج، کہاں گنگو تیلی، کارکن دھکے کھاتے رہے، سہیل آفریدی آرام فرماتے رہے

 ایک کارکن کا کہنا تھا کہ عمران خان سے وابستگی اپنی جگہ برقرار ہے، تاہم اگر لوگ ہی احتجاج میں شریک نہ ہوں اور قیادت کارکنوں کو ساتھ لے کر نہ چلے تو احتجاج کا کیا فائدہ؟

 لانگ مارچ کیلئے چندے کے حوالے سے بھی کارکنوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے۔ ایک شریک نے دعویٰ کیا کہ عوام سے تقریباً ایک ارب 30 کروڑ روپے چندہ جمع کیا گیا، جس میں لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالا۔ کارکن نے مطالبہ کیا کہ چندے کا حساب واضح کیا جائے اور رقم کسی دوسرے مقصد کیلئے استعمال نہ کی جائے۔

 کارکنوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ نہ انہیں ساتھ لے کر چلا جارہا ہے اور نہ ہی کوہاٹ، بنوں اور دیگر علاقوں کے لوگوں کو مؤثر انداز میں متحرک کیا جارہا ہے۔

 بعض کارکنوں نے موجودہ احتجاج کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ بھی اسی طریقے سے احتجاج کیا گیا تو اس کے نتائج بھی مختلف نہیں ہوں گے۔

Scroll to Top