پارٹی قیادت کی عدم دلچسپی ، انتشاری مارچ ناکامی سے دوچار

پارٹی قیادت کی عدم دلچسپی ، انتشاری مارچ ناکامی سے دوچار

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے انتشاری مارچ پارٹی کے اندر قیادت اور ارکان کی عدم شرکت پر سوالات بھی اٹھ گئے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر چند ساتھیوں کے ہمراہ مارچ میں نمایاں ہیں، جبکہ پارٹی کے کئی اہم رہنما اور منتخب ارکان منظر سے غائب دکھائی دے رہے ہیں جو انتشاری مارچ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے لانگ مارچ میں تاحال شریک نہ ہونے پر بھی سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ صوبائی وزرا عدنان قادری، خلیق الرحمان سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی سوشل میڈیا مہم جاری ہے۔

سینیٹیر فیصل، علی امین گنڈاپور، مشتاق غنی، قاسم علی شاہ، اسد قیصر، عاطف خان، شہرام ترکئی، دیر کے ارکان اسمبلی، فخر جہان اور ریاض سمیت متعدد رہنماؤں کی سرگرمیوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ انہوں نے لانگ مارچ کے لیے اب تک کیا کردار ادا کیا؟

صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وزیراعلیٰ کی سوشل میڈیا ٹیم نے ان پارٹی رہنماؤں اور ارکان کی تصاویر شیئر کرنا شروع کردی ہیں جو یا تو لانگ مارچ میں صرف حاضری لگاتے دکھائی دیتے ہیں یا مکمل طور پر غیر حاضر ہیں۔

لانگ مارچ ایم این اے شیر افضل مروت کے حلقے سے شروع ہوئی لیکن نہ وہ اس میں شریک ہوئے اور نہ ہی ان کے بھائی جو علی امین گنڈا پور کی کابینہ میں معاون خصوصی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تھے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 93 ارکان ہیں، جن میں وزرا، مشیر، معاونین خصوصی اور پارلیمانی سیکریٹریز بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ خیبرپختونخوا سے سینیٹرز سمیت پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کی تعداد بھی ایک بڑی سیاسی قوت ہے، لیکن ان میں سے بیشتر کی لانگ مارچ میں موجودگی نمایاں نہیں۔

پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کے 115 ارکان صوبائی اسمبلی ہیں، تاہم وہاں احتجاجی سرگرمیوں پر خاموشی نظر آ رہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی نے اپنا احتجاج عملاً خیبرپختونخوا تک محدود کردیا ہے؟

مینا خان آفریدی اپنے حلقے میں تو متحرک ہے لیکن لانگ مارچ میں وہ خود کو اسٹیج سے دور رکھ رہے ہیں، نہ صرف وہ بلکہ بیشتر ارکان کی یہ کوشش ہے کہ وہ اسٹیج سے دور رہیں۔

ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر اس وقت مختلف دھڑے ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں، بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ سہیل آفریدی کا لانگ مارچ ناکام ہونا چاہیے، جبکہ وزیراعلیٰ پر اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کے لیے دباؤ بڑھانے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔

صوبائی صدر جنید اکبر بھی متعدد مواقع پر ان کارکنوں اور رہنماؤں پر نظر رکھنے کی بات کر چکے ہیں جو ان کے بقول صرف وقت گزاری کے لیے مارچ کا حصہ بن رہے ہیں۔

Scroll to Top