پشاور ہائیکورٹ نے این اے 18 ہری پور کے انتخاب کے دوران انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے متعلق سہیل آفریدی کیس میں الیکشن کمیشن کی کارروائی، سوموٹو اختیار اور انکوائری کے طریقہ کار پر تفصیلی دلائل سننے کے بعد اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
جسٹس ارشد علی نے سہیل آفریدی کے وکیل سے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کا سوموٹو ایکشن کس طرح قانون کے منافی ہے اور جاری انکوائری میں بنیادی خامی کہاں موجود ہے۔
الیکشن کمیشن نے انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کا مؤقف پیش کر دیا
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ این اے 18 ہری پور کے انتخاب کے دوران انتخابی قوانین اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی گئی، جبکہ اس معاملے کی تفصیلات سوشل میڈیا کے ساتھ قومی میڈیا پر بھی رپورٹ ہو چکی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق سہیل آفریدی نے این اے 18 ہری پور میں عمر ایوب کے حق میں جلسہ منعقد کیا، جسے انتخابی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
کمیشن کا مؤقف تھا کہ انتخابی عمل کے دوران ضابطہ اخلاق کی پابندی تمام متعلقہ افراد پر لازم ہوتی ہے اور کسی ممکنہ خلاف ورزی کی صورت میں کمیشن کارروائی کا اختیار رکھتا ہے۔
الیکشن کمیشن نے عدالت کو مزید بتایا کہ معاملے پر ایک شہری کی جانب سے بھی باقاعدہ شکایت درج کرائی گئی تھی، جس کے بعد شکایت کی جانچ کے لیے انکوائری افسر مقرر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : دہشتگردی کے خلاف خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیاں قابلِ قدر ہیں، وزیراعظم
کمیشن کے مطابق الیکشن ایکٹ کے تحت سہیل آفریدی کو نوٹسز بھی جاری کیے گئے تاکہ انہیں الزامات کا جواب دینے اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔
کیس میں سوموٹو اور شہری کی شکایت، 2 الگ بنیادوں پر کارروائی
سماعت کے دوران جسٹس ارشد علی کے سامنے یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ معاملے میں کارروائی صرف ایک شکایت تک محدود نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سوموٹو نوٹس اور شہری کی شکایت، دونوں بنیادوں پر کارروائی کی گئی۔
جسٹس ارشد علی نے سہیل آفریدی کے وکیل سے استفسار کیا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے لیا گیا سوموٹو ایکشن کس طرح قانون کے خلاف ہے۔
سہیل آفریدی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن خود ہی الزامات عائد کر رہا ہے اور خود ہی انہی الزامات کی انکوائری بھی کر رہا ہے، جس سے کارروائی کے طریقہ کار پر قانونی سوال پیدا ہوتا ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کے خلاف شکایت انتخابات سے پہلے درج کی گئی تھی جبکہ الیکشن کمیشن نے بھی انتخاب سے قبل سوموٹو لیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق اگر الیکشن سے قبل کوئی معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے آتا ہے تو کمیشن کو اس کا فیصلہ بھی انتخاب سے پہلے کرنا چاہیے تھا۔
شہری کی شکایت سے زیادہ سوموٹو کی قانونی حیثیت اہم ہے
سماعت کے دوران جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے میں محض شہری کی شکایت اہم نہیں بلکہ اصل اہمیت اس امر کی ہے کہ الیکشن کمیشن نے سوموٹو کارروائی کس اختیار کے تحت شروع کی اور اس کی قانونی بنیاد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس طلب، 12 نکاتی ایجنڈا جاری
عدالت نے مزید استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کی جانے والی انکوائری میں ایسی کیا خامی ہے جس کی بنیاد پر کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کی جا رہی ہے۔
جسٹس ارشد علی نے سہیل آفریدی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن انہیں سنے بغیر ہی فیصلہ کر دے؟
عدالت نے مزید کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کسی فریق کو سنے بغیر فیصلہ کرتا تو پھر یہی شکایت سامنے آ سکتی تھی کہ متعلقہ فریق کو مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
سہیل آفریدی کے وکیل کی دلیل
سہیل آفریدی کے وکیل نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ انکوائری افسر کے قانونی اختیار کو بائی پاس کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے براہ راست ان کے مؤکل کو نوٹس جاری کر دیا۔
وکیل کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ بات واضح نہیں کہ اس معاملے میں انکوائری افسر کون ہو گا اور وہ کس طریقہ کار کے تحت انکوائری کرے گا۔
انہوں نے استدلال کیا کہ جب انکوائری کا طریقہ کار اور افسر کا دائرۂ اختیار ہی پوری طرح واضح نہ ہو تو ایسی کارروائی کے قانونی جواز کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
کیپٹن صفدر کے اعلانات کے بعد ہم نے انتخابی مہم شروع کی
سہیل آفریدی کے وکیل نے سماعت کے دوران یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کی جانب سے انتخابی سرگرمی اس وقت شروع کی گئی جب کیپٹن صفدر کی جانب سے اعلانات کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی نے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، کوہاٹ میں پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ، 4 اہلکار زخمی
وکیل کے مطابق انہوں نے کیپٹن صفدر کی جانب سے کیے گئے اعلانات کے خلاف اپنی مہم شروع کی، تاہم الیکشن کمیشن نے کیپٹن صفدر کے خلاف کارروائی پہلی ہی سماعت میں ختم کر دی تھی۔
اس پر جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ اگر اس کارروائی پر اعتراض تھا تو اسے متعلقہ فورم پر چیلنج یا اس کے خلاف شکایت کیوں نہیں کی گئی۔
عدالت کے اس سوال سے یہ نکتہ بھی نمایاں ہوا کہ ایک فریق کے خلاف امتیازی کارروائی کا دعویٰ صرف اسی صورت مؤثر قانونی بنیاد اختیار کر سکتا ہے جب متعلقہ فیصلے کو دستیاب قانونی طریقہ کار کے مطابق چیلنج بھی کیا گیا ہو۔
الیکشن کمیشن کے پاس نااہلی کا اختیار
سہیل آفریدی کے وکیل نے عدالت میں ایک ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کے پاس کسی شخص کو نااہل قرار دینے کا اختیار موجود نہیں۔
وکیل کا استدلال تھا کہ الیکشن کمیشن اپنے قانونی دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ایسی کارروائی نہیں کر سکتا جو بالآخر نااہلی یا اس نوعیت کے نتیجے تک پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں : کہاں راجا بھوج، کہاں گنگو تیلی، کارکن دھکے کھاتے رہے، سہیل آفریدی آرام فرماتے رہے
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اس مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت کمیشن کے پاس ایسے اختیارات موجود ہیں جن کے ذریعے انتخابی عمل میں کرپٹ عناصر اور غیر قانونی اقدامات کو روکا جا سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن نے شفاف انتخابات کو بنیادی ذمہ داری قرار دے دیا
الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کے اختیارات اپنی نوعیت میں محدود اور مخصوص ہوتے ہیں، تاہم کرپٹ عناصر اور انتخابی عمل کو متاثر کرنے والی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا الیکشن کمیشن کے اختیار اور ذمہ داری میں شامل ہے۔
الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی اور قانونی طور پر اس کی بنیادی ذمہ داری شفاف، منصفانہ اور قانون کے مطابق انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہے۔
کمیشن کے مطابق اگر انتخابی عمل کے دوران کسی غیر قانونی سرگرمی، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی یا ایسے اقدام کی اطلاع سامنے آئے جو انتخابات کی شفافیت پر اثرانداز ہو سکتا ہو تو الیکشن کمیشن اس معاملے کا نوٹس لینے اور اسے روکنے کا اختیار رکھتا ہے۔
الیکشن کمیشن نے عدالت کو یہ بھی واضح کیا کہ سہیل آفریدی کے خلاف زیر سماعت معاملے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور کارروائی فی الحال قانونی و انکوائری مراحل میں ہے۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل کا سوال بھی زیر بحث
سماعت کے دوران جسٹس ارشد علی نے الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ اگر کمیشن اس معاملے میں کوئی فیصلہ جاری کرتا ہے تو کیا اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے؟اس پر الیکشن کمیشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ کمیشن کے 3 اقسام کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا قانونی راستہ موجود ہے۔
اس نکتے نے مقدمے میں دستیاب قانونی چارہ جوئی کے سوال کو بھی اہم بنا دیا، کیونکہ عدالت کے سامنے بنیادی بحث صرف الیکشن کمیشن کے موجودہ اختیار تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ کمیشن کے کسی ممکنہ حتمی فیصلے کے بعد متاثرہ فریق کو کون سا قانونی فورم دستیاب ہو گا۔





