عالمی فوجداری عدالت سے متعلق امریکہ کا بڑا فیصلہ

عالمی فوجداری عدالت سے متعلق امریکہ کا بڑا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دیں، امریکہ کی جانب سے یہ اقدام  آئی سی سی کی ایک سابق جج کو نوبل انعام دیے جانے کے محض چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔

عالمی فوجداری عدالت نے امریکی انتظامنیہ کی جانب سےعائد کی گئی پابندیوں کو ’قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں پر حملہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے اور اپنے 125 رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ عدالت کے دفاع کے لیے آگے آئیں۔

عدالت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے ’عدالت تنہا کھڑی نہیں رہ سکتی، اس کی تقدیر اب ان ریاستوں کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے اسے قائم کیا تھا، بات صرف ایک ادارے کے دفاع کی نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی پر مبنی بین الاقوامی نظام کے تحفظ کی ہے‘۔

عدالت پر پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ ’صدر ٹرمپ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو کبھی بھی امریکیوں پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اسی لیے آج امریکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگا رہا ہے، ہم اس سرکش عدالت کے ساتھ لین دین پر پابندی عائد کریں گے، ان کے وسائل منقطع کر دیں گے اور اس کے کام کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیں گے‘۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ پابندیوں کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ عدالت اور اس کے رکن ممالک کو امریکی مطابات دور کرنے کا موقع ملے اور اگر ان مطالبات کو پورا نہ کیا گیا تو پابندیوں میں ردوبدل کیا جائے گا۔

امریکا نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سمیت دیگر اسرائیلی حکام کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے اور ماضی میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے اقدامات کی تحقیقات پر آئی سی سی کی شدید مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں عدالت کو اپنے رکن ممالک کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل رہی ہے جن میں امریکہ اور ترکیے کے علاوہ یورپی یونین کے تمام ممالک اور نیٹو اتحاد کے تمام ارکان شامل ہیں، آئی سی سی کا صدر دفتر بھی یورپی یونین اور نیٹو کے رکن ملک نیدرلینڈز میں واقع ہے۔

Scroll to Top