ایمرجنسی 12 اضلاع میں نہیں بلکہ پورے صوبے میں لگے گی،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیرپارلیمانی امور ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ایمرجنسی کے حوالے سے غور و خوض مکمل ہو گیا،ایمرجنسی 12 اضلاع میں نہیں بلکہ پورے خیبرپختونخوا میں لگے گی۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات دہشتگردی کے خلاف صوبائی حکومت کے تعاون سے مشروط ہوں گے۔

اس سے قبل آج اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دہشتگردی پر قابو پانے میں ناکام رہنے والے وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹائے۔

انہوں نےکہا کہ سیاسی طور پر ناپختہ لوگ خیبر پختونخوا پر مسلط ہیں اور جو لوگ سڑکوں پر سرکس لگا رہے ہیں، انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو ڈیل کرنا وفاقی حکومت کے لیے کوئی چیلنج نہیں ہے اور لانگ مارچ کا معاملہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی پر قابو پانے سے بالکل الگ موضوع ہے۔

طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ حکومت خون بہانے والوں کا قلع قمع کرنے کے لیے میدان عمل میں موجود ہے جبکہ صوبے کے بارہ اضلاع دہشتگردی سے شدید متاثر ہیں جہاں خصوصی انتظامات کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔وفاقی حکومت کی ترجیح دہشتگردی پرقابو پانا ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے باعث خیبر پختونخوا کے کئی علاقے نو گو ایریاز بن چکے ہیں لیکن پی ٹی آئی والے ان علاقوں میں باآسانی آتے جاتے ہیں اس لیے تحریک انصاف کو وضاحت کرنی چاہیے کہ دہشتگردوں کے ساتھ ان کا کیا تعلق ہے۔

یہ بھی پڑھیں : لکی مروت: بھائی کی فائرنگ سے دو بھائی جاں بحق، بہن زخمی

لیگی رہنما نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے نمٹنے کے تمام انتظامات مکمل کئے جاچکے ہیں اور اگر صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ ہوتا ہے تو اس کا لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا بلکہ ممکنہ ایمرجنسی کا نفاذ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عدم تعاون کا نتیجہ ہوگا۔

Scroll to Top