اسلام آباد: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن سے متعلق سلامتی کونسل کے ماہانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ اور اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے فیصلوں کے تحت پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے گزشتہ روز کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے عوام اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے سعودی عرب کے جائز حق کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
پاکستان کی حوثی حملوں کی شدید مذمت
سفیر عاصم افتخار احمد نے مکہ مکرمہ گورنریٹ اور مدینہ منورہ میں طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر حوثی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ اہم تجویز زیرِ غور
انہوں نے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں کا بھی ذکر کیا، جن میں شہری جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ حوثی ملیشیا ان حملوں کو فوری طور پر بند کرے اور حرمین شریفین کی سلامتی، حرمت اور تقدس کا ہر حال میں احترام کیا جائے۔
یمن کی خودمختاری اور سمندری سیکیورٹی پر زور
پاکستان نے یمن کی خودمختاری، اتحاد اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ یمن کے مغربی ساحل اور باب المندب آبنائے کے قریب حوثی کارروائیوں میں اضافہ سمندری سیکیورٹی کے لیے خطرات بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق تجارتی جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔
انسانی امداد کی فراہمی اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ
پاکستانی مندوب نے یمن میں جاری انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تعز اور عدن ایئرپورٹ پر حملوں کا ذکر کیا۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر، حافظ نعیم الرحمان نے بڑا اعلان کردیا
انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانی امداد کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جائے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے مناسب فنڈنگ یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے اداروں اور سفارتی عملے سے وابستہ زیرِ حراست افراد کی فوری اور محفوظ رہائی پر بھی زور دیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کی طویل تاریخ ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات خطے میں امن، استحکام اور اسٹریٹجک تعاون کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کا ہنرمند غیر ملکی ورکرز کو ورک پرمٹ کے ساتھ فیملی ویزا کی اجازت
سعودی عرب کے شہری ڈھانچے اور اقتصادی تنصیبات پر حوثی حملوں کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان نے اپنے مؤقف میں سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تقدس کے تحفظ کو اہم قرار دیتے ہوئے علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق یمن میں پائیدار امن کے لیے جامع سیاسی حل، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور بین الاقوامی قانون کا احترام ناگزیر ہے۔





