عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، گزشتہ ڈھائی سال کے دوران تحریک انصاف کی حکومت ہر لحاظ سے ناکام رہی ہے۔
ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ وہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے مخالف ہیں تاہم موجودہ حالات کی ذمہ داری تحریک انصاف کی حکومت اور اسے اقتدار میں لانے والوں پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت گزشتہ ڈھائی سال کے دوران عوامی مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی مخالفت کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ حالات کو اس نہج پر پہنچانے کے ذمہ دار تحریک انصاف کی حکومت اور ان کو لانے والے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت گزشتہ ڈھائی سال میں ہر لحاظ سے بدترین طور سے ناکام رہی ہے۔ اس حکومت نے عوام کے مسائل حل کرنے میں معمولی دلچسپی بھی نہیں لی بلکہ صوبے کو ایک مسلسل ہیجانی کیفیت میں مبتلا رکھ کر کرپشن کا ایک بازار گرم رکھے ہوا ہے۔ یہ دہشتگردی سے نمٹنے میں کبھی سنجیدہ نہیں رہی بلکہ اس نے اپنے قول و فعل سے ہمیشہ یہ ثابت کیا کہ اس کی ہمدردیاں عوام، صوبے اور ملک کے ساتھ نہیں بلکہ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں۔ پولیس اور عوام کے شہداء کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے اس نے دہشتگردوں کی بالواسطہ یا بلا واسطہ سہولتکاری کی۔ اس کا انعام اسے عوام اور قانون کے ساتھ کھڑی ہونے والی جماعت کو دہشتگردی اور ففتھ جنریشن کے پراپیگنڈے کا شکار بنا کر اسے اکیلے جگہ دے کر دیا گیا۔
گورنر راج یا ایمرجنسی لگے یا نہ لگے، یہ ایک زمانے میں دو باہمی محبت کرنے والوں کی آپس کی لڑائی ہے۔ ہم تحریک انصاف اور اس کو لانے والوں، دونوں کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
— Aimal Wali Khan (@AimalWali) October 10, 2026
حکومت نے عوامی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے صوبے کو مسلسل بے یقینی اور ہیجانی کیفیت سے دوچار کیے رکھا، جبکہ کرپشن کا بازار بھی گرم رہا۔
اے این پی کے صدر کا کہنا ہے تحریک انصاف کی حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملے میں کبھی سنجیدہ نظر نہیں آئی۔ اس کے طرزِ عمل سے یہ تاثر ملتا رہا کہ اس کی ہمدردیاں عوام، صوبے اور ملک کے مفادات کے بجائے دہشت گردوں کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں اور عوام کی قربانیوں کا ساتھ دینے کے بجائے دہشت گردوں کی بالواسطہ یا بلاواسطہ سہولت کاری کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام اور قانون کے ساتھ کھڑے ہونے والی جماعت کو دہشت گردی اور ففتھ جنریشن وارفیئر کے پراپیگنڈے کا نشانہ بنایا گیا اور اسے سیاسی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ ہو یا نہ ہو، موجودہ صورتِ حال دراصل تحریک انصاف اور اسے اقتدار میں لانے والوں کے درمیان کشمکش کا نتیجہ ہے، دونوں فریقوں کو اپنی ذمہ داریوں کا جواب دینا ہوگا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحریک انصاف اور اسے اقتدار میں لانے والوں، دونوں کا احتساب کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کو مزید سیاسی تجربات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا اور صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔





