رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے احتجاجی مارچ اور جلسوں میں پارلیمنٹیرینز کی شرکت پر سوالات اٹھا دیے۔
شیر افضل مروت نے اپنے بیان میں کہا کہ ماضی کے مارچوں، جلسوں اور احتجاجی مظاہروں میں چند ایک کے سوا کتنے پارلیمنٹیرینز خود شریک ہوئے تھے؟ اب اچانک ایسا کون سا جذبہ بیدار ہوگیا ہے کہ جو اپنی شرکت یقینی نہیں بنا سکے، وہ پانچ سو یا ایک ہزار افراد لانے کی ذمہ داری کیسے پوری کریں گے؟
سہیل صاحب! پہلے یہ تو بتائیے کہ اِکّا دُکّا کے سوا، کسی پچھلے مارچ، جلسے یا احتجاج میں یہ پارلیمنٹیرینز خود بنفسِ نفیس بھی نظر آئے تھے؟ اب اچانک کون سا جذبہ جاگ گیا کہ جو اپنی ذات کو نہ لا سکے، وہ پانچ سو اور ہزار، ہزار بندے لے آئیں گے؟ 😂
جن کی اپنی حاضری کی ضمانت نہیں، اُن کے ذمے ہزار آدمی لگانا ایسا ہی ہے جیسے مفرور کو بارات لانے کی ذمہ داری دے دی جائے!
پہلے ان سے کہیں: «حضرات! آپ خود تشریف لے آئیے، کارکن اپنے بندے خود گن لیں گے۔»
فی الحال تو آپ کے اعلان میں ہزار، ہزار بندے تیار ہیں؛ بس انہیں لانے والا ایک، ایک بندہ لاپتا ہے! 😂
— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) October 10, 2026
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جن لوگوں کی اپنی حاضری یقینی نہیں، انہیں ہزاروں افراد لانے کا ہدف دینا ایسا ہی ہے جیسے کسی مفرور شخص کو بارات لانے کی ذمہ داری سونپ دی جائے۔
شیر افضل مروت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے پارلیمنٹیرینز سے اپنی شرکت یقینی بنانے کا کہیں، کارکنوں کی تعداد کا حساب بعد میں کرلیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال اعلانات میں ہزاروں افراد لانے کے دعوے تو کیے جارہے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان افراد کو لانے کی ذمہ داری اٹھانے والے خود نظر نہیں آتے۔





