خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی حسن خان نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ صوبائی حکومت کے دہشت گردوں کے حوالے سے اپنائے گئے بیانیے کی وجہ سے سامنے آیا ہے، کیونکہ ان کا بیانیہ وہی تھا جو دہشت گردوں کا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ضروری تھا کہ یہ فیصلہ بہت پہلے لیا جاتا۔ اب جب صورتحال واضح ہو جائے اور امن قائم ہو جائے تو جس نے بھی اقتدار میں آنا ہے وہ آ جائے، لیکن موجودہ حالات میں یہ ایک انتہائی ضروری فیصلہ تھا۔
حسن خان نے مزید کہا کہ صوبے میں انتشار اور نفرت کی سیاست جاری تھی اور وفاق کے ساتھ مسلسل تناؤ کی فضا قائم تھی۔ ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں وزیراعلیٰ محض نامزد نہیں بلکہ مجرم تھے اور نااہل ہو چکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے جو بیانیہ اپنایا گیا تھا وہ پورے ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ تھا۔ معاملے کو سمیٹنے کے لیے مذاکرات بھی کیے گئے لیکن پی ٹی آئی نے انہیں تسلیم نہیں کیا۔





