پبلک سیکیورٹی اینلسٹ اور خیبرپختونخوا پولیس کے سابق ڈی آئی جی ادریس خان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو خطے کی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کا دہشت گردی کے حوالے سے بیانیہ اور رویہ کالعدم گروہوں کے بیانیے کی عکاسی کر رہا تھا جس سے مسائل نے جنم لیا۔
ادریس خان کے مطابق صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ایسا سخت انتظامی قدم بہت پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ موجودہ حالات کے دھارے کو سیدھا کرنے اور امن لانے کے بعد اقتدار جس کو بھی ملے، لیکن سیکیورٹی نقطہ نظر سے یہ فیصلہ وقت کا تقاضا تھا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کو بدامنی اور عدمِ استحکام کی طرف دھکیلا گیا جبکہ وفاق کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کے بجائے تناؤ پیدا کیا گیا۔ وزیراعلیٰ ریڈیو پاکستان حملے کے اہم کیس میں محض ملزم نہیں بلکہ عدالت سے ثابت شدہ مجرم اور نااہل تھے۔ ملک کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر سیاسی تصفیے کے لیے مذاکرات کی کوشش کی گئی لیکن پی ٹی آئی کی ہٹ دھرمی کے باعث وہ کامیاب نہ ہو سکی۔





