ریاض ایئرپورٹ پر ایک اور حملہ، پاکستانی شہری جاں بحق، 11 افراد زخمی

ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور حملے کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ 11 دیگر افراد زخمی ہوگئے۔

 سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق اتوار کو ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بھی ایئرپورٹ پر نامعلوم میزائل یا گولے سے حملے کی اطلاع دی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض میں پاکستانی سفارت خانہ سعودی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور متاثرہ پاکستانی خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

سعودی اتحاد کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل کو روک لیا۔ اس کے علاوہ مشرقی صوبے میں ایک ڈرون تباہ کرنے اور خمیس مشیط کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل کو ناکام بنانے کی بھی اطلاع دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، ایک خارجی دہشت گرد جہنم واصل

 دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس نے پیر کی صبح جنوبی شہر ابہا میں ہنگامی وارننگ جاری کی، تاہم بعد میں خطرہ ٹلنے کا اعلان کردیا گیا۔

سعودی سرکاری ٹی وی کی جانب سے ہفتے کے حملے کی جاری کردہ ویڈیو میں عمرے کے لیے روانہ ہونے والے زائرین کو دیکھا جا سکتا ہے۔

 ویڈیو کے مطابق اچانک آگ کے شعلے بلند ہونے پر مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ بھاگنے لگے، جبکہ چھت کے بعض حصے بھی گرتے دکھائی دیے۔

حملے کے بعد ایئرپورٹ بند کردیا گیا تھا۔ سعودی حکام کے مطابق ہفتے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری بھی شامل تھے، جبکہ دیگر افراد غیر ملکی تھے۔ اتوار کے واقعے کے بعد فراہم کردہ معلومات کے مطابق رواں ہفتے ریاض ایئرپورٹ پر حملوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 18 ہوگئی۔

 حوثیوں کا دمام ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اتوار کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں ہفتے کے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں دمام ایئرپورٹ اور سعودی تیل کمپنی آرامکو کی دو تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اتوار کی رات دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نقصان کا جائزہ لینے اور ایئرپورٹ کی تنصیبات کی سلامتی جانچنے کا عمل جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں گورنر راج کب کب نافذ ہوا؟ تاریخی واقعات جانیے

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دمام ایئرپورٹ پر موجود ایک طیارے کے مسافر نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ایک میزائل یا گولا رن وے پر کئی طیاروں کے قریب گرا، جس سے آگ لگ گئی۔ عینی شاہد کے مطابق طیارے کو واپس گیٹ پر لایا گیا، مسافروں کو اتارا گیا اور انہیں وہاں سے نکلنے کی ہدایت کی گئی۔

پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق اتوار کو دمام ایئرپورٹ سے آنے اور جانے والی متعدد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں یا منسوخ کردی گئیں۔

حوثیوں نے اتوار کو ایک مرتبہ پھر سعودی ایئرپورٹس استعمال کرنے کے خلاف وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنبیہ کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ گروپ نے مزید حملوں کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔

برطانوی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سعودی عرب میں موجود اپنے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ جدہ، دمام اور مملکت کے دیگر ایئرپورٹس سے سفر کرنے سے گریز کریں۔ اس ہدایت میں مدینہ ایئرپورٹ کو استثنیٰ دیا گیا تھا۔

امریکی فضائی حکام نے بھی امریکی ایئرلائنز کو سعودی عرب جانے یا اس کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کے دوران احتیاط برتنے سے متعلق نوٹس جاری کیا۔

 یمن میں فضائی حملوں پر حوثیوں کی سعودی عرب کو وارننگ

حوثیوں کے زیرانتظام یمن کی وزارت خارجہ نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن میں 124 فضائی حملے کیے ہیں۔

حوثیوں کے زیرانتظام ٹی وی چینل المسیرہ پر نشر کیے گئے بیان میں وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے یمن میں اپنی فوجی کارروائیاں اور مداخلت بند نہ کی تو اسے مزید سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں یمن میں اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھائی ہیں۔ گزشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر کے ساحل پر ایک اہم علاقے پر قبضے کے بعد سعودی عرب نے ان کے خلاف فضائی حملے کیے اور یمنی حکومت کی جوابی کارروائی کی حمایت کی۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا تھا کہ امریکا حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔ یہ کشیدگی ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے پھیلاؤ کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ سعودی ہم منصب کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے تہران کی جانب سے سعودی عرب اور یمن کے درمیان بات چیت میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

 ریاض میں توانائی کانفرنس جاری، اسکولوں میں آن لائن تعلیم

حملوں کے باوجود عالمی توانائی تنظیم ڈبلیو پی سی انرجی کی پانچ روزہ کانفرنس اتوار کو ریاض کے ایک کنونشن سینٹر میں طے شدہ پروگرام کے مطابق شروع ہوگئی۔ یہ مقام ایئرپورٹ سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

سعودی وزارت توانائی کے مطابق انٹرنیشنل انرجی فورم کا وزارتی اجلاس بھی منعقد ہوا، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کن ممالک کے وزرا نے اس میں شرکت کی۔

کانفرنس کی شریک میزبان اٹلی کے وزیر توانائی گلبرٹو پیکیٹو فراٹن نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

دوسری جانب جرمن حکام وزیر معیشت کترینا رائخے کی وطن واپسی کے لیے پرواز کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کی پیر کو برلن واپسی متوقع تھی، تاہم جرمن وزارت کے مطابق پرواز روانہ نہ ہو سکنے کا امکان موجود تھا۔

سعودی حکام نے حفاظتی اقدامات کے تحت ریاض کے اسکولوں میں اتوار سے جمعرات تک بالمشافہ تدریس معطل کرکے آن لائن تعلیم جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔

Scroll to Top