مخالفین تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں ن لیگ کے کام نظر آئیں گے، امیر مقام

خیبر پختونخوا کے عوام بدامنی سے تنگ آ چکے ہیں، امن ان کی اولین ترجیح ہے، امیر مقام

پشاور: وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا مرحلہ پُرامن انداز میں مکمل ہونے پر تمام متعلقہ فریقوں کے شکر گزار ہیں، تاہم اب عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا، معمولاتِ زندگی بحال کرنا اور صوبے میں پائیدار امن قائم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ایمرجنسی کے نفاذ کے عمل کی خود نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت، گورنر خیبر پختونخوا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی رابطے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو دہشت گردی سے نجات دلانا اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر اقدامات کریں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کا تعاون بھی ناگزیر ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت اور افواج پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں سونا سستا ہوگیا، فی تولہ نئی قیمت جاری

امیر مقام کے مطابق مذاکرات کے دوران متعدد امور پر اتفاق رائے ہوا، تاہم دہشت گردی کے خلاف تعاون کے معاملے پر اختلافات برقرار رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت اس حوالے سے مؤثر تعاون نہیں کر رہی، حالانکہ موجودہ حالات میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے صوبے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض علاقوں میں خوف و ہراس اس حد تک ہے کہ لوگ جنازوں میں شرکت کرنے سے بھی گھبراتے ہیں۔ ان کے بقول دہشت گردی کے خاتمے کے لیے واضح مؤقف اور عملی اقدامات کرنا ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے گزشتہ 13 برس کے دوران خیبر پختونخوا کو فراہم کیے جانے والے وسائل کے استعمال کا حساب لینے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے لیے مختص وسائل کہاں خرچ ہوئے اور مبینہ بدعنوانی کے حوالے سے جواب دہی ہونی چاہیے۔

امیر مقام نے بتایا کہ وہ گورنر خیبر پختونخوا، انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکریٹری سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں عوام کو درپیش مشکلات کے خاتمے، امن و امان کی صورتحال اور انتظامی معاملات پر گفتگو کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور کسی شہری کو آمدورفت میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

خیبر پختونخوا کے عوام کو دوسرے صوبوں کے برابر سہولتیں اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : پاک فوج کا مشاق تربیتی طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار، میجر اور کیپٹن شہید

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی اور بدامنی سے تنگ آ چکے ہیں اور ان کی بنیادی خواہش امن و امان کی بحالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے پاکستان اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا اظہار کیا ہے اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے مخالفین کے دعووں کو مسترد کیا ہے۔

امیر مقام کے مطابق وہ مختلف اضلاع سے عوامی ردعمل کے بارے میں رپورٹس لیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض مقامات پر لوگوں نے مٹھائیاں تقسیم کرکے خوشی کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے پُرامن صورتحال برقرار رکھنے پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئی جی پولیس کی بہتر منصوبہ بندی نے اس عمل کو پُرامن رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مولانا فضل الرحمان کے مؤقف سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ ایک بڑے سیاسی رہنما ہیں اور انہیں اپنی سوچ اور رائے کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی و وفاقی حکومتیں اور تمام متعلقہ فریق مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تو حالات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے چند دنوں میں مثبت تبدیلیاں دکھائی دیں گی۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں امن و امان کے لیے گرینڈ حکمت عملی، ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس

امیر مقام نے بتایا کہ بارڈر کھولنے اور کاروباری سرگرمیوں کو درپیش مسائل سمیت مختلف معاملات پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق عوامی مسائل حل کرنے اور صوبے کی بہتری کے لیے تمام فریقوں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا میں مجوزہ ٹیکس اقدامات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسمبلی میں بھی ان اقدامات کے خلاف آواز اٹھا چکے ہیں اور احتجاجاً واک آؤٹ بھی کیا تھا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا کے عوام پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ نہ ڈالا جائے اور عوامی مفاد کے خلاف اقدامات واپس لینے کے لیے مشترکہ آواز اٹھائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام کو ان علاقوں کے عوام کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔

Scroll to Top