ملتان: شیر شاہ پل کے قریب کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس حادثے کا شکار ہوگئی، جس کے نتیجے میں ٹرین کی تمام 15 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ حادثے میں 4 مسافروں کے جاں بحق اور 12 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حادثہ صبح تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا۔ واقعے کے فوراً بعد امدادی اداروں نے کارروائیاں شروع کردیں اور زخمیوں کو نشتر ہسپتال ملتان منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
حادثے کے بعد ٹرین میں سوار مسافروں کو اپنا سامان اٹھائے ریلوے پٹریوں کے کنارے بیٹھے دیکھا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق رحمان بابا ایکسپریس کراچی سے پشاور کی جانب رواں دواں تھی کہ شیر شاہ پل کے قریب اس کی تمام بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔
دوسری جانب بعض ذرائع کی جانب سے حادثے کے وقت ٹرین کی رفتار زیادہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم حادثے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں معمولاتِ زندگی بحال، بی آر ٹی سروس بھی آج سے شروع ہوگی
ایک مسافر نے دعویٰ کیا ہے کہ روہڑی کے قریب رحمان بابا ایکسپریس کی نویں بوگی کے نٹ بولٹ درست کیے گئے تھے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس کا حادثے سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرین حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرین کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
حادثے کے بعد امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ ٹرین کی تمام بوگیوں کے پٹری سے اترنے کی وجوہات جاننے کے لیے واقعے کی تحقیقات ضروری ہیں۔
جبکہ دوسری جانب نوشہرہ آدم زئی پھاٹک کے مقام پر ٹرین کی زد میں آکر 27 سالہ نوجوان جاں بحق ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں : نوشہرہ: آدم زئی پھاٹک پر ٹرین کی ٹکر سے 27 سالہ نوجوان جاں بحق
ریسکیو 1122 نوشہرہ کے مطابق جاں بحق نوجوان کی شناخت جمال عمر کے نام سے ہوئی ہے، جو شیدو کا رہائشی تھا۔ واقعے کی اطلاع موصول ہوتے ہی ریسکیو 1122 کی میڈیکل ٹیم سیشن 33 سے جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق نوجوان موقع پر ہی دم توڑ چکا تھا۔ بعد ازاں ریسکیو اہلکاروں نے میت کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال نوشہرہ منتقل کردیا۔





