پشاور: خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے انتشاری ٹولےکی بدترین حکمرانی اور کرپٹ حکومت کے خاتمے کے بعد گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ بالکل درست اور بروقت ثابت ہوا ہے۔ صوبے سے انتشار، بدامنی اور 13 سالہ لوٹ مار کے دور کا سورج غروب ہوتے ہی خیبر پختونخوا کی فضا پرسکون ہو گئی ہے اور عوام نے چین کا سانس لیا ہے۔
بازاروں میں رونقیں بحال، معمولاتِ زندگی رواں دواں
ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے باوجود پشاور سمیت صوبے بھر میں حالات مکمل طور پر پرسکون اور معمول کے مطابق ہیں۔
پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار اور صدر سمیت تمام اہم تجارتی مراکز میں رونقیں عروج پر ہیں اور شہری بلا خوف و خطر اپنی خریداریاں کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ صبح سے اپنے کاروباروں میں مصروف ہیں اور انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں۔
اسی طرح ضلع ملاکنڈ میں بھی معمولاتِ زندگی رواں دواں ہیں، سڑکوں پر ٹریفک کی روانی برقرار ہے اور تمام کاروباری مراکز کھلے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ملک بھر میں سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ، فی بوری کے نئے نرخ سامنے آگئے
سیاسی تبدیلی کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کے کارکنان منظرِ عام سے بالکل غائب ہو چکے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ڈھول کی تھاپ اور آتش بازی کر کے جشن منایا۔
درہ آدم خیل، باجوڑ اور چارسدہ میں یومِ نجات اور مٹھائیاں
پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے اور گورنر راج کو صوبے بھر میں یومِ تشکراور یومِ نجات کے طور پر منایا جا رہا ہے۔
درہ آدم خیل اور کوہاٹ: مختلف مقامات پر عوامی ریلیوں کا انعقاد کیا گیا جہاں شہریوں نے ایک دوسرے میں مٹھائیاں تقسیم کیں۔
باجوڑ: شہریوں نے پی ٹی آئی کے ڈراؤنے خواب سے آزادی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اب خیبر پختونخوا میں حقیقی امن، ترقی اور کاروبار کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کا گورنر خیبرپختونخوا کے بیان کا خیرمقدم
چارسدہ: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ضلعی صدر نعیم خان عمرزئی کی رہائش گاہ پر یومِ نجات کی تقریب منعقد ہوئی۔ انہوں نے گورنر خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کی اندھی کرپشن کا بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔
پی ٹی آئی کی کرپشن اور احتساب کا شدید مطالبہ
قبائلی رہنما ملک صلاح الدین کوکی خیل نے پختون ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی مجرمانہ غفلت اور اقربا پروری نے قبائلی اضلاع کو سنگین بدامنی، بے روزگاری اور معاشی جمود کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کی فوری بحالی کے اقدامات کیے جائیں اور عمران خان کے نام پر ہونے والی کروڑوں روپے کی لوٹ مار، وزراء کی ناجائز جائیدادوں اور کمائی کا فوری محاسبہ کیا جائے۔
سیاسی رہنماؤں اور عوام کا شدید ردِعمل
پی پی پی کے سابق ایم پی اے صاحبزادہ ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی اندرونی اقتدار کی رسہ کشی کے باعث تمام عوامی منصوبے صرف کاغذی اعلانات تک محدود رہے۔
یہ بھی پڑھیں : وفاقی حکومت کے مختلف افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب گورنر راج کے تحت میگا پراجیکٹس کے ذریعے خطے کو واقعی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر واجد علی نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ کئی سالوں سے ترقی کے بجائے صرف انتشار کو ترجیح دی جا رہی تھی، اس لیے گورنر راج کا فیصلہ بالکل بروقت ہے۔
دوسری جانب رستم اور کے پی کے دیگر علاقوں کے شہریوں نے بھی 13 سال سے پسماندہ صوبے کی آزادی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے گورنر راج کو ترقی کا نیا آغاز قرار دیا ہے۔





