خیبر پختونخوا کے علاقے باڑہ میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے اور بدامنی پھیلانے والے عناصر کے خلاف جاری بڑے پیمانے کے آپریشن کے دوران 50 سے زائد پی ٹی آئی شرپسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں 25 افغان شہری بھی شامل ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق باڑہ میں سرکاری املاک بالخصوص ریسکیو 1122 کے دفتر پر دھاوا بولنے اور توڑ پھوڑ کرنے والے قانون شکنوں کے خلاف پشاور سے قیدیوں کی وینیں منگوا کر بلا تفریق کریک ڈاؤن کیا گیا۔ ٹارگٹڈ آپریشنز کے نتیجے میں گرفتاریوں کی تعداد 50 سے تجاوز کر چکی ہے۔
پولیس کے ایکشن کے بعد پی ٹی آئی کے باقی ماندہ پرتشدد کارندوں کی دوڑیں لگ گئی ہیں اور وہ اپنے بلوں میں چھپنے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے پر کالعدم ٹی ٹی پی کی تڑپ: ثمر ہارون بلور نے دہشت گردوں اور پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ بے نقاب کر دیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے علاقے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے اور صورتحال اس وقت مکمل طور پر قابو میں ہے جبکہ مفرور شرپسندوں کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
حکام نے واقعے کا سنگین نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی سخت دفعات کے تحت 4 الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ میں ملوث دیگر تمام افراد کی نشاندہی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
باقی ماندہ تمام نامزد اور مطلوب شرپسندوں کو پکڑنے کے لیے آج رات مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر سرپرائز چھاپے مارے جائیں گے۔
حکام کا واضح کہنا ہے کہ سیاسی احتجاج کی آڑ میں ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے اور پرتشدد کارروائیاں کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی۔





