دیر بالا: دیر بالا میں تباہ حال تعلیمی نظام اور مسلسل انتظامی ناکامی نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے، جس کے باعث مقامی عوام نے حکمرانی کے معیار کو سدھارنے کے لیے نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں کے قیام کا پرزور مطالبہ کر دیا ہے۔
ضلع دیر بالا میں تعلیمی شعبہ بالخصوص گرلز ایجوکیشن مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے جہاں پورے علاقے میں محض ایک اسکول موجود ہے، لیکن اس کی عمارت بھی خستہ حالی کا شکار ہے اور فرنیچر کی حالت انتہائی ابتر ہے۔
دوسری جانب بوائز اسکولوں کی صورتحال اس سے بھی زیادہ دلخراش ہے جہاں عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، فرنیچر کا نام و نشان نہیں اور اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
بنیادی سہولیات اور اسکولوں کی عدم دستیابی کے باعث ہزاروں بچے زیورِ تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں، جسے مقامی شہریوں نے صوبائی انتظامیہ کی انتہائی درجے کی بیڈ گورننس اور مجرمانہ غفلت قرار دیا ہے۔
اسی انتظامی ناکامی، بدامنی اور تباہ حالی کے پیشِ نظر تین دن قبل خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سخت اقدام پختونخوا کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر اٹھانا پڑا کیونکہ صوبے میں پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی کے باعث دہشت گردی، بدامنی اور مہنگائی کی لہر بے قابو ہو چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : پرانی ویڈیوز کو نیا رنگ دینے کی کوشش :اگست 2026 میں پشاور پہنچنے والی بی آر ٹی بسوں کی پرانی ویڈیوز کو پنجاب سے منسوب کرنے کا مکروہ پروپیگنڈا بے نقاب
انتشاری ٹولے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جماعت کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد عناصر کے ساتھ گہرے روابط رہے ہیں، اور انہی کی سہولت کاری و مفاہمانہ پالیسیوں کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں طالبان اور ٹی ٹی پی کو دوبارہ پناہ اور آباد ہونے کا موقع ملا۔
تحریک انصاف کی ان بدعنوان اور ملک دشمن پالیسیوں کی وجہ سے صوبے کا عام شہری خود کو بالکل غیر محفوظ محسوس کر رہا تھا، جس کی تازہ مثال گزشتہ روز خیبر کے علاقے باڑہ عالم گودر میں دیکھنے کو ملی جہاں اس انتشاری ٹولے نے امن و امان قائم کرنے والے پولیس اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ کر دی۔
خیبر پختونخوا کے عوام اس تمام تر تباہی، تعلیمی زوال اور سیکیورٹی کی سنگین صورتحال کا ذمہ دار پی ٹی آئی کی منفی اور انتشار پسند سیاست کو قرار دے رہے ہیں۔





