سابق امریکی صدر باراک اوباما نے مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازعے اور غزہ میں اسرائیلی عسکری کارروائیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ محض عسکری طاقت پائیدار سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتی اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھ کر اسرائیل نے اپنی اخلاقی برتری کھو دی ہے۔
شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران سابق امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی پالیسیوں کے منفی اثرات کا احاطہ کیا۔
اوباما نے کہا کہ تباہ کن تشدد اور جنگ کے اس چکر سے ہر حساس انسان کو تکلیف ہونی چاہیےکیونکہ یہ تاریخی شکایات، سخت رویوں اور شدید سیاسی و مذہبی تقسیم کے باعث مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔
فلسطینیوں سے ناانصافی کا اعتراف
باراک اوباما نے یورپ میں یہودی عوام کو درپیش مظالم اور سامیت دشمنی کی طویل تاریخ کا اعتراف تو کیا، لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی زور دے کر بیان کی کہ فلسطینیوں سے ان کی زمینیں چھین کر ان کے ساتھ شدید ناانصافی کی گئی ہے۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ فلسطینیوں سے ان کی زمینیں چھینی گئیں اور ان پر حد سے زیادہ تجاوز کیا گیا۔ جب یہ متاثرہ لوگ کہتے ہیں کہ ‘یہ ناانصافی ہے اور ہمیں اپنی زمین واپس چاہیےتو وہ بالکل بجا اور حق پر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :13 سالہ سیاسی اثر و رسوخ کے خاتمے کی جانب پیش رفت: کے پی حکومت کے تمام محکموں سے قانونی مشیروں کو فوری ہٹانے کا حکم!
اخلاقی بنیادوں کا زوال
سابق امریکی صدر نے اسرائیل کے عسکری اور تکنیکی غرور کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ صرف طاقت کے بل بوتے پر فیصلے مسلط کرنا ناکامی کا پیش خیمہ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر اسرائیل کی سوچ یہ بن چکی ہے کہ چونکہ ہم خطے میں سب سے زیادہ طاقتور اور تکنیکی لحاظ سے ترقی یافتہ ہیں، اس لیے ہماری سلامتی صرف اپنی مرضی مسلط کرنے، جو چاہیں حاصل کرنے اور کسی کو رعایت نہ دینے میں ہے تو یہ حکمتِ عملی شاید قلیل مدت کے لیے تو فائدہ دے جائے، لیکن طویل مدت میں اس رویے کی وجہ سے آپ اپنی تمام تر اخلاقی بنیاد اور برتری کھو دیتے ہیں۔





