خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے سابقہ دورِ اقتدار میں پروان چڑھنے والی سیاسی سفارشات اور انتظامی بگاڑ کے خاتمے کی جانب ایک اور بڑا قدم اٹھا لیا گیا ہے۔
محکمہ قانون خیبر پختونخوا نے تمام انتظامی سیکرٹریز کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کرتے ہوئے سابقہ حکومت کے دور میں تعیّنات کیے گئے تمام قانونی مشیروں کو فوری طور پرڈی نوٹیفائی کرنے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔
محکمہ قانون کے مراسلے کے مطابق سیاسی بنیادوں پر کی گئی ان تقرریوں کی سفارش 11 نومبر 2024 سے 17 ستمبر 2026کے عرصے کے دوران ایڈووکیٹ جنرل آفس کی اسکروٹنی کمیٹی کے ذریعے کی گئی تھی، جسے اب مکمل طور پر منسوخ کیا جا رہا ہے۔ انتظامی سیکرٹریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہٹائے جانے والے مشیروں کی برطرفی کی کارروائی فوری مکمل کر کے محکمہ قانون کو آگاہ کریں۔
سرکاری امور اور عدالتی مقدمات کی اثر انداز پیروی کو برقرار رکھنے کے لیے محکمہ قانون نے نئے اہل وکلاء کی فوری تعیّناتی کا عمل شروع کرنے پر زور دیا ہے۔
گورنر کی مشاورتی کونسل کے مشیرِ قانون عامر جاوید نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس کی طرزیات پر تمام سرکاری محکموں میں بھی شفافیت اور خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر وکلاء کی تقرری کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ اقدام کا مقصد نظام کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنا ہے؛ تاہم سابقہ وکلاء کے لیے بھی دوبارہ آمد کا راستہ یکسر بند نہیں کیا گیا۔ اگر ہٹائے جانے والے مشیروں میں سے کوئی وکیل شفاف میرٹ کے کڑے معیار پر پورا اترتا ہے تو اسے دوبارہ بھی ذمہ داریاں سونپی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کی معدنیات کی لوٹ مار اور علیمہ خان کے گھر پیسوں کی ترسیل کا مکروہ دھندہ بے نقاب
چونکہ قانونی مشیر سرکاری اداروں کے اہم مقدمات، آئینی امور اور پالیسیوں پر قانونی رہنمائی فراہم کرتے ہیں، اس لیے اس تبدیلی کے دوران مقدمات کی پیروی اور محکموں کے قانونی کاموں میں تعطل سے بچنے کے لیے نئی تعیناتیوں کے عمل کو تیز تر بنانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ صوبے کے انتظامی ڈھانچے کی بحالی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔





