انسان دشمن طالبان رجیم کی نااہلی کا پردہ چاک: واخان میں 30 فیصد بچے ہلاک، حکمران نمائشی ڈراموں میں مصروف!

افغانستان میں پروان چڑھنے والی طالبان رجیم کا ایک اور نام نہاد اور فریب کارانہ ڈرامہ چوراہے پر رسوا ہو گیا ہے۔

عالمی تحقیقاتی ادارےنے اپنی رپورٹ میں طالبان رجیم کے نام نہاد واخان راہداری منصوبے کا پردہ چاک کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ناقابلِ عمل، جھوٹ پر مبنی اور نمائشی شوشہ قرار دے دیا ہے۔

گزشتہ 4 اکتوبر کو طالبان حکمرانوں نے واخان سڑک کے افتتاح کی نمائش کر کے عالمی سطح پر کریڈٹ لینے کی سستی کوشش تو کی، تاہم بیجنگ اور بین الاقوامی دفاعی ماہرین نے دوٹوک واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردوں کے مسکن بنے اس خطے میں سرحد کھلنے کا فی الحال دور دور تک کوئی امکان موجود نہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایک طرف واخان کے دور افتادہ علاقوں میں طالبان کی بدترین نااہلی کے باعث انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، جہاں نومولود بچوں کی شرحِ اموات 30 فیصدجیسی سنسنی خیز سطح تک پہنچ چکی ہے اور عوام بنیادی ادویات و خوراک کو ترس رہے ہیں تو دوسری جانب طالبان رجیم عوامی ریلیف کے بجائے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ایسے ڈھکوسلوں اور نمائشی سڑکوں کا سہارا لے رہی ہے۔

رپورٹ میں جغرافیائی حقائق کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 4,800 میٹر کی انتہائی بلندی پر واقع یہ درہ شدید برف باری اور سخت موسم کی وجہ سے سال میں بمشکل صرف 3 ماہ ہی آمدورفت کے قابل رہتا ہے۔ اس کے علاوہ، طالبان کے زیرِ تسلط تباہ حال اور محدود افغان معیشت کے باعث طاقتور چینی معیشت کے لیے اس راہداری کی تجارتی اہمیت صفر کے برابر ہے۔

رپورٹ میں سب سے سنسنی خیز انکشاف افغان سرزمین سے جاری بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق ہے۔ اقوامِ متحدہ کی 2026 کی موثر رپورٹ نے بدخشاں میں چینی مخالف خطرناک دہشت گرد تنظیم ای ٹی آئی ایم کے تربیتی کیمپوں اور آزادانہ نقل و حرکت کی تصدیق کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : فلسطینیوں کی زمین چھینی گئی، ان کا مطالبہ بالکل درست ہے: سابق امریکی صدر کا تاریخی اور اہم ترین اعتراف

چینی ذرائع ابلاغ نے افغان سرحد کے 76 کلومیٹر طویل علاقے کو انسدادِ دہشت گردی کا اہم ترین محاذ قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا ہےکہ طالبان رجیم ای ٹی آئی ایم اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی سے متعلق بیجنگ کے مطالبات کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔

بیجنگ کا موقف واضح ہے کہ جب تک طالبان رجیم دہشت گرد گروہوں کے تربیتی مراکز کا خاتمہ اور سرحد پار دراندازی بند نہیں کرتی، سرحد سے خاردار تاریں نہیں ہٹیں گی اور دہشت گردوں کی سرپرست طالبان رجیم کے لیے واخان کا تجارتی دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہی رہے گا۔

Scroll to Top