ٹرمپ کا زہریلا سیاسی انتقام مجھے خاموش نہیں کرا سکتا: رہائش گاہ پر چھاپے اور تلاشی کے بعد الہان عمر کا ردِعمل!

ٹرمپ انتظامیہ نے ڈیموکریٹک پارٹی کی نمایاں مسلم رکنِ کانگریس الہان عمر کے خلاف سیاسی و قانونی گھیرا تنگ کرتے ہوئے ان کی امریکی شہریت کی منسوخی اور ممکنہ ملک بدری کے لیے سنگین تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق وفاقی تحقیقاتی اداروں نے کارروائی تیز کرتے ہوئے الہان عمر کا موبائل فون، پاسپورٹ اور اہم دستاویزات ضبط کر لی ہیں جبکہ ان کے اہلخانہ اور قریبی رشتہ داروں سمیت ایک درجن سے زائد افراد کو سمن جاری کر دیے گئے ہیں۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق منی سوٹا میں گرینڈ جیوری کی کارروائی کے تحت وفاقی ایجنٹوں نے چند روز قبل الہان عمر کی رہائش گاہ پر چھاپا مارا اور تلاشی کے دوران اہم اشیا قبضے میں لیں۔ امریکی حکام اس وقت الہان عمر کے سالہا سال پرانے امیگریشن ریکارڈ اور امریکی شہریت حاصل کرنے کے طریقہ کار کی چھان بین کر رہے ہیں تا کہ مبینہ دھوکہ دہی کے الزامات کو ثابت کیا جا سکے۔

دوسری جانب الہان عمر کے دفتر اور ترجمان نے تمام تر تحقیقات کو یکسر لغو، بے بنیاد اور سیاسی بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔ الہان عمر نے وفاقی اداروں کی اس کارروائی کو صدر ٹرمپ کا سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے میرے خلاف بے بنیاد الزامات، تعصب اور کردار کشی کی زہریلی مہم چلا رہے ہیں۔ اس قسم کے سیاسی دباؤ اور بے بنیاد تحقیقات سے میری آواز کو دبایا نہیں جا سکتا اور میں اپنے اصولوں پر بلاخوف قائم رہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں : مصری ذرائع ابلاغ میں دبئی مذاکرات کی گونج: پاکستان اور کوریا کی مشترکہ حکمتِ عملی کو خطے کا معاشی سنگِ میل قرار دے دیا گیا!

قانونی و سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بیٹھتی ہوئی ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس کی شہریت منسوخ کرنے اور ملک بدری کا مقدمہ قائم کرنا امریکی تاریخ میں ایک سنسنی خیز اور متنازع باب کا اضافہ کرے گا، جس سے ٹرمپ انتظامیہ اور ڈیموکریٹک اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید شدید ہونے کے خدشات ہیں۔

Scroll to Top