پی ٹی آئی حکومت کا ایک اورکھیل بے نقاب :اپنے ہی رہنماؤں کے نجی اسکولوں کا بزنس چمکانے کے لیے قانون میں ترمیم کا انکشاف

خیبر پختونخوا میں جون 2017 کے دوران نجی تعلیمی اداروں کو ریگولیٹ کرنے والے قانون میں کی جانے والی ترامیم پر شدید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں مبینہ طور پر سابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اسد قیصر اور مشتاق غنی سمیت دیگر کی ملکیت والے نجی اسکولوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے کی گئی تھیں۔

 9 جون 2017 کو جاری ہونے والے خیبر پختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ کے تحت ریگولیٹری اتھارٹی کو قانون کی خلاف ورزی کرنے والے یا غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں کو سیل کرنے کا پورا اختیار حاصل تھا۔ 

صوبائی حکومت نے محض چند ہفتوں بعد 23 جون 2017 کو اس قانون میں ترمیم کرتے ہوئے وہ شق ہی ختم کر دی جس کے تحت تعلیمی اداروں کو بند یا سیل کیا جا سکتا تھا، اور کارروائی کو صرف جرمانے تک محدود کر دیا گیا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ قانون میں یہ ترامیم اس وقت کے اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر اور دیگر ایسے سیاسی رہنماؤں کی فرمائش پر لائی گئیں جو خود نجی اسکولوں کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں : دنیا کا انوکھا لانگ مارچ جو اپنی ہی حکومت نگل گیا: مریم نواز

اس گٹھ جوڑ کا مقصد ان کے ذاتی تعلیمی اداروں کو قانون کے شکنجے اور تالے لگنے سے بچانا تھا۔ 

Scroll to Top