شہدا کے جنازوں سے فرار اور ذاتی مفادات پر واویلا: خواجہ آصف کا فضل الرحمان سمیت تمام اپوزیشن رہنماؤں کے دوغلے چہروں پر سے پردہ فاش

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک کے معدنی وسائل، خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کی ابتر صورتحال اور ملکی سیاسی تاریخ کے کئی حساس موضوعات پر اہم اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے امریکا کو معدنیات کے ٹھیکے دینے کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کے پی کے کی سابق پی ٹی آئی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف عدم تعاون کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے اربوں ڈالر کے قیمتی معدنی وسائل میں امریکا، چین، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت دنیا کے کئی ممالک گہری دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم ابھی تک کسی بھی ملک یا امریکی کمپنی کو کسی کان کا ٹھیکا جاری نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ بیرونی سرمایہ کاری کے بغیر ان وسائل کو زمین سے نکالنا ناممکن ہے، اس لیے حکومت صرف ان شفاف اور محفوظ ممالک کے ساتھ معاملات آگے بڑھائے گی جہاں قومی مفاد کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دلچسپی ظاہر کرنے اور باقاعدہ معاہدہ کرنے میں واضح فرق ہوتا ہے۔

کے پی کی سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے سابق پی ٹی آئی حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ سابق صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق کے ساتھ بالکل تعاون نہیں کر رہی تھی اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی حتمی اطلاعات ہونے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی جاتی تھی۔ اس مجرمانہ خاموشی اور عدم توجہی کے باعث گزشتہ ڈیڑھ سال میں دہشت گردانہ حملوں اور جانی نقصان میں خوفناک اضافہ ہوا۔

انہوں نے تاکید کی کہ سیکیورٹی اداروں کی انٹیلی جنس کارروائیوں کے بعد صوبائی انتظامیہ کو اپنی رٹ قائم کرنا ہوگی، ورنہ شدت پسند دوبارہ قدم جما لیں گے۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے انکشاف کیا کہ انتظامی سیٹ اپ میں کوئی پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں تھا بلکہ تمام آئینی راستے آزمانے کے بعد آخری چارہ کار کے طور پر اس پر غور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گورنر راج کی مخالفت کرنے والے عناصر دراصل نیا سائیڈ سیٹ اپ چاہتے تھے اور جب انہیں ذاتی کردار نہ ملا تو وہ مخالفت پر اتر آئے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ کی نامزدگی پر انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کو مراد سعید کی ہدایت پر بنایا گیا، جبکہ مراد سعید اور بانی پی ٹی آئی درحقیقت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی گفتگو کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آواز میں خلوص واضح تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پی ڈی ایم حکومت کے قیام کے بعد کے اہم سیاسی راز سے پردہ اٹھایا۔

انہوں نے بتایا کہ عدم اعتماد کی کامیابی کے فوراً بعد مسلم لیگ (ن) اور وہ خود شہباز شریف کو ایک ماہ کے اندر فوری انتخابات کرانے کا مشورہ دے رہے تھے، لیکن کچھ سیاسی اتحادی مزید ایک سال تک اقتدار کی مدت طویل کرنے کے خواش مند تھے۔

یہ بھی پڑھیں : اوورسیز پاکستانیوں کا استحصال ختم! عمان میں ملازمت کے نئے لیبر ضوابط جاری، 7 دن کے نوٹس اور 3 ماہ پروبیشن کی شرط لازمی

اپوزیشن رہنماؤں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے خواجہ آصف نے بانی پی ٹی آئی اور فضل الرحمان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک کے لیے جانیں قربان کرنے والے شہدا کے جنازوں میں یہ رہنما کیوں شریک نہیں ہوتے؟ ۔

ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ مشرف دور میں بھی فضل الرحمان ایم ایم اے کی حکومت اور اپوزیشن لیڈر کے منصب کا لطف اٹھاتے رہے، جبکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو باہر رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کا اصل ایجنڈا عوامی فلاح نہیں بلکہ صرف اقتدار اور مالی مفادات حاصل کرنا ہے۔

Scroll to Top