مذہب کا کارڈ یا اربوں کے اثاثے؟ فضل الرحمان کی مبینہ کرپشن، بے نامی جائیدادوں اور ڈیزل پرمٹس کی کہانی

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ  فضل الرحمان دہائیوں سے پاکستان کی سیاست کا ایک بااثر حصہ رہے ہیں لیکن ان کا یہ سیاسی سفر تنازعات اور مالی بدعنوانیوں کے الزامات سے خالی نہیں رہا ، قومی احتساب بیورو( نیب)اور مختلف تحقیقاتی اداروں کی جانب سے سامنے آنے والے حقائق نے ان کے زہد اور سادہ زیستی کے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔

بے نامی جائیدادیں اور کروڑوں کے فارم ہاؤسز:
نیب کی جانب سے فضل الرحمان کو بھیجے گئے نوٹسز اور تحقیقاتی دستاویزات کے مطابق ان کے اور ان کے قریبی رفقاء کے نام پر اربوں روپے کی بے نامی جائیدادیں سامنے آئی ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور اسلام آباد میں سیکڑوں کنال اراضی، پرتعیش فارم ہاؤسز اور تجارتی پلاٹس شامل ہیں۔ نیب تحقیقات کے مطابق ان اثاثوں کی مالیت ان کے ظاہرکردہ ذرائع آمدن سے کہیں زیادہ مطابقت نہیں رکھتی۔

سرکاری مراعات اور کشمیر کمیٹی کا مبینہ غلط استعمال:
فضل الرحمان پر طویل عرصے تک کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ سنبھالنے کے دوران کروڑوں روپے کے سرکاری فنڈز، پروٹوکول اور سرکاری مراعات کو ذاتی و سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ کشمیر کاز کے نام پر اربوں روپے کے بجٹ کا استعمال کیا گیا، لیکن اس کی کارکردگی صفر رہی جبکہ ان کی ذاتی مراعات اور بجٹ میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا۔

ڈیزل پرمٹ اور ڈیزل کا خطاب:
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مولانا فضل الرحمان کو ان کے مخالفین کی جانب سے ان کو ڈیزل کا لقب دیا گیا۔ یہ لقب 1990ء کی دہائی میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے دوران ڈیزل کے غیر قانونی پرمٹس اور راشننگ اسکیموں میں مبینہ طور پر اربوں روپے کی کرپشن اور کمیشن وصول کرنے کے شدید الزامات کے بعد مشہور ہوا، جس کی وضاحت وہ آج تک مکمل طور پر دینے سے قاصر رہے ہیں۔

عوام کا کہنا ہے کہ دین کے نام پر سیاست کرنے والی اس شخصیت نے اپنے دورِ اقتدار میں نہ صرف اپنے خاندان اور قریبی ساتھیوں کو اربوں پتی بنایا بلکہ عوام کو غریب سے غریب تر کر دیا۔

Scroll to Top