مقدس ناموں پر سیاسی دکان چمکانے کا دور ختم، خیبر پختونخوا کے عوام نے فضل الرحمٰن کا بیانیہ مسترد کر دیا

پشاور: فضل الرحمٰن کی مفتی محمود کانفرنس میں پاک فوج اور شہداء کے خلاف کی گئی تند و تیز گفتگو، اداروں پر تنقید، اور اقتدار نہ ملنے پر ملکی سلامتی کے ضامن اداروں کو متنازع بنانے کی کوششوں پر شدید عوامی، سیاسی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے کڑا ردِعمل سامنے آیا ہے۔

پختونخوا کے عوام اور رہنماؤں نے فضل الرحمان کے بیانات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں ذاتی مفادات کی سیاست کا حامی قرار دیا ہے۔

مفتی محمود کانفرنس کے منبر کو ذاتی و سیاسی بغض کا نشانہ بناتے ہوئے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمٰن نے ایک بار پھر پاک فوج، ملکی دفاعی اداروں اور وطن کی بقا کے لیے جانیں قربان کرنے والے شہداء کے خلاف ہٹ دھرمی، توہین آمیز اور تند و تیز زبان استعمال کی ہے۔

 فضل الرحمٰن کے اس رویے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے مذہبی و سیاسی حلقوں نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام واویلا صرف اور صرف گورنرشپ، وزارتوں اور اقتدار کا حصہ نہ ملنے کی حسرت اور مایوسی کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی کی گرفتاری میں کس کا ہاتھ ہے؟ جے یو آئی کے سابق سینیٹر گل نصیب خان کا تہلکہ خیز انکشاف

دفاعی و سیاسی رہنماؤں نے مولانا کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہماری ماں کی مانند ہے اور ہمارے شہداء کا مقدس خون اس کی مٹی میں شامل ہے۔

ہمارا فرض ہے کہ ہم اس پاک وطن پر اپنی جان نچھاور کریں۔ ایک سیاسی و مذہبی رہنما کہلانے والے شخص کو ایسی گھٹیا باتیں زیب نہیں دیتیں۔

فضل الرحمٰن نے جو ہٹ دھرمی دکھائی ہے، خدا نہ کرے کہ کوئی محبِ وطن ایسی سوچ بھی رکھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج اس اسلامی اور جمہوری وطن میں جو ہم آزادانہ اور پرامن زندگی گزار رہے ہیں، یہ سب افواجِ پاکستان اور شہداء کی لازوال قربانیوں ہی کا ثمر ہے۔

 شہداء قوم کے سروں کے تاج ہیں اور فوج کی موجودگی ہی پاکستان کے دفاع اور سلامتی کی ضامن ہے۔

 فضل الرحمٰن کے متنازع اور دہرے معیار کو بے نقاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے عوام نے ان کے ماضی کا کچا چھٹا کھول کر رکھ دیا۔

 انہوں نے کہا کہ فضل الرحمٰن کی سیاست کا واحد محور ذاتی مراعات ہیں۔ جب تک حکومت میں حصہ یا دو چار وزارتی منصب ملتے رہیں، تب تک مولانا بالکل خاموش رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی اقتدار کا ڈول ڈوبتا ہے یا گورنرشپ کی بھیک نہیں ملتی، فوراً فوج، اسٹیبلشمنٹ اور قومی اداروں پر بلاوجہ کی تنقید اور بیانات بازی شروع کر دی جاتی ہے۔

 اس تمام عرصے میں عوام کی حالتِ زار، کمر توڑ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت پر کبھی ایک لفظ نہیں بولا جاتا۔

یہ بھی پڑھیں : کوہاٹ پولیس لائن حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاک، کالعدم حافظ گل بہادر گروپ نے اپنے اہم کمانڈر ابوذر بنگش کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

سیاسی و مذہبی قائدین نے مولانا کو سخت آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ناموسِ رسالت اور دین کے مقدس نام پر ملین مارچ نکالنا اور مدارس کے معصوم طلبہ کو اپنی سیاسی ڈھال بنانا فضل الرحمٰن کا پرانا وتیرہ رہا ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ ماضی کا نام نہاد آزادی مارچ بھی محض ایک کرائے کا مارچ ثابت ہوا جس کا مقصد صرف اور صرف اپنے ذاتی و انفرادی مفادات کی تسکین تھا۔

 اگر فضل الرحمٰن واقعی اپنے اصولوں میں سچے اور بااصول سیاستدان ہیں، تو سب سے پہلے وہ تمام سیاسی نشستیں اور خیرات واپس کریں جو انہوں نے پی ٹی آئی اور دیگر کی حمایت سے حاصل کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا کوئی بھی مؤقف اصولی نہیں بلکہ صرف ان کی ذاتی تجوریوں اور اقتدار کی ہوس کے گرد گھومتا ہے۔

ریاست یا حکومتی پالیسیوں سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر شہداء کے تقدس اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو پامال کرنے کی اجازت کسی شرپسند یا مفاد پرست کو نہیں دی جا سکتی۔

 فوج ہمارا قومی ادارہ ہے اور شہداء ہمارے محسن ہیں۔ قومی ہیروز کے خلاف زہر اگلنے والے عناصر کی دکان اب ہمیشہ کے لیے بند ہو چکی ہے اور قوم اپنے دفاعی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

Scroll to Top