سابق سینیٹر مولانا گل نصیب خان نے کہا ہے کہ صوبے میں مالی مشکلات اور بدامنی میں اضافہ ہوا، جمعیت علمائے اسلام نہ حکومت میں ہے اور نہ مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔
پختون ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں مولانا گل نصیب خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کو تین مرتبہ حکومت بنانے کا موقع ملا، تاہم ان کے بقول صوبہ مالی مشکلات اور بدامنی کا اس قدر شکار ہوا کہ اس سے پہلے ایسی صورت حال نہیں دیکھی گئی۔
پختون ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کی اور اسے صوبے کے موجودہ حالات کی بڑی وجہ قرار دیا۔
مولانا گل نصیب خان نے مولانا فضل الرحمان کی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں مولانا فضل الرحمان اس وقت نہ حکومت میں ہیں اور نہ اپوزیشن میں مؤثر کردار ادا کر پا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام کے پاس ایک بڑا سیاسی قافلہ اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے، لیکن اس کے باوجود جماعت سیاسی طور پر غیر مؤثر دکھائی دے رہی ہے، جس کی وجہ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی حکمت عملی کو قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : فضل الرحمان کو معدنیات کا اتنا درد ہے تو بتائیں ڈی آئی خان اور بنوں میں کون سے پہاڑ ہیں؟ فیصل کریم کنڈی
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی جمعیت علمائے اسلام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان کے بقول عمران خان کی حکومت کے خلاف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی تشکیل میں مولانا فضل الرحمان نے اہم کردار ادا کیا اور وہ اس اتحاد کے صدر بھی رہے، لیکن جب اختیارات اور عہدوں کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو جمعیت علمائے اسلام کو وہ حصہ نہیں ملا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
مولانا گل نصیب خان نے سہیل آفریدی کی گرفتاری سے متعلق معاملے پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے اس حوالے سے سامنے آنے والے الزام کا ذکر کیا کہ وزیراعلیٰ کو مذاکرات کے لیے مردان بلانے کے معاملے کا اس واقعے سے تعلق تھا۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے مولانا گل نصیب خان نے کہا کہ ان کے نزدیک حکومت نے تعمیر و ترقی کے حوالے سے خاطر خواہ کام نہیں کیا، تاہم انہوں نے اپنے لیے مراعات حاصل کرنے کو حکمران جماعت کی حکمت عملی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر احتساب کا عمل شروع ہوتا ہے تو وہ اس کی بھرپور حمایت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : ملتان کے مدرسے کے ایک عام طالبعلم کی اربوں کی سلطنت، فضل الرحمان کے بے نامی محلات اور کالی کمائی کا مکروہ دھندہ بے نقاب
ان کا کہنا تھا کہ قومی خزانے کے بے دریغ استعمال کو روکنا اور احتساب کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ضروری ہے، تاکہ سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
گورنر راج کے معاملے پر مولانا گل نصیب خان نے کہا کہ عام طور پر لوگ گورنر راج سے جو مطلب لیتے ہیں، آئینی طور پر اس کا مفہوم لازماً وہ نہیں ہوتا۔
ان کے بقول گورنر راج نہ مارشل لا ہے اور نہ ہی اس کا مطلب محض حکومت کی تبدیلی ہے، بلکہ موجودہ صورت حال کو اختیارات کی سمت میں تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ انتظامیہ اپنی کارکردگی بہتر بنائے، کرپشن کا راستہ روکے اور احتساب کے لیے راہیں ہموار کرے تو یہ تجربہ صوبے کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیٹ اپ صوبے کے لیے نیک شگون ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ وہ شفافیت، احتساب اور بہتر طرز حکمرانی کو یقینی بنائے۔





