اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے انکشاف کیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ فضل الرحمان کا اصل جھگڑا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ نہیں بلکہ ’تحریکِ انتشار‘ (پی ٹی آئی) کے ساتھ ہے۔
پنجاب میں مسلم لیگ (ن) نے فضل الرحمان کے خلاف کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا، بلکہ مولانا کا موقف ہے کہ ان کے خلاف فارم 47 پی ٹی آئی کو دیا گیا اور خیبرپختونخوا کی حکومت ان سے چھین کر پی ٹی آئی کے حوالے کی گئی، اسی لیےفضل الرحمان کو اصل شکایت خیبرپختونخوا کے انتخابی نتائج سے ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حذیفہ رحمان نے دعویٰ کیا کہ فضل الرحمان اس وقت سیاسی طور پر پی ٹی آئی کی خاموش حمایت کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنا کھویا ہوا ووٹ بینک واپس حاصل کر سکیں، اسی تناظر میں فضل الرحمان کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا مطالبہ بھی منطقی نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : متاثرہ اضلاع کے فنڈز پر اب کوئی ڈاکہ نہیں ڈال سکے گا، این ایف سی فنڈز کی الگ منتقلی کا فیصلہ
انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت خوش آئند ہے، تاہم پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے معاملے پر کسی بھی رہنما کی سیاسی مقبولیت کو ترجیح نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی مقبولیت کی بنیاد پر قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔
فتنہ الخوارج اور امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے معاون خصوصی نے مزید کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف جو واضح اور سخت پالیسی ملک کے دیگر حصوں میں اختیار کی گئی ہے، وہی خیبرپختونخوا میں بھی نافذ العمل ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ حکومت کے سخت فیصلے عموماً غیر مقبول سمجھے جاتے ہیں لیکن ریاست کی بقا اور سلامتی کے لیے ایسے تمام فیصلے ضروری ہیں، اور وہ ہمیشہ وہی بات کرتے ہیں جس کے حقائق کے وہ خود گواہ ہوتے ہیں۔





