گورنر راج کے بعد وزیراعظم کا پہلا دورۂ پشاور، اہم اعلانات اور ایجنڈے کی تفصیلات سامنے آ گئی

اسلام آباد :  وزیراعظم شہباز شریف کا گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی دعوت پر کل پشاور پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ 

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وزیراعظم کا یہ دورہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے، دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور ترقیاتی و انتظامی مسائل کے حل کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان مشترکہ حکمت عملی کی تیاری کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم کے دورۂ پشاور کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ توقع ہے کہ وزیراعظم کل پشاور پہنچیں گے۔

 سرکاری ذرائع کے مطابق دورے کے دوران وزیراعظم امن و امان کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں انہیں دہشت گردوں اور فتنہ الخوارج کے خلاف جاری کارروائیوں اور اب تک کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی۔

جبکہ اجلاس میں صوبے کی سکیورٹی ضروریات اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے درکار اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : مقدس سرزمین سعودی عرب کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ نوچ لی جائے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر

 دورے کا اہم پہلو وفاقی اور صوبائی سطح پر سکیورٹی معاملات میں رابطوں کو مؤثر بنانا اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحۂ عمل تیار کرنا ہوگا۔

 جس میں امن و امان کی صورت حال، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ضروریات اور متاثرہ علاقوں میں ریاستی رٹ کی بحالی کو اہمیت دی جائے گی تاکہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ پائیدار امن کی بنیاد بھی مضبوط کی جا سکے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم ضم شدہ اضلاع اور خیبرپختونخوا کے چار جنوبی اضلاع میں دہشت گردی کے خاتمے، پائیدار امن اور ترقی کے لیے قائم ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کے اراکین سے بھی ملاقات کریں گے۔

 ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں کونسل کے اراکین کو ان کی ذمہ داریوں، ترجیحات اور متعلقہ علاقوں میں امن و ترقی کے لیے متوقع کردار سے آگاہ کیا جائے گا، جبکہ ان کونسلز کے ذریعے مقامی سطح پر درپیش مسائل کی نشاندہی اور ترقیاتی ضروریات کو مربوط انداز میں آگے بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

دورے کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی وزیراعظم کو صوبے کو درپیش دیگر اہم مسائل سے بھی آگاہ کریں گے، جن میں گندم اور آٹے کی دستیابی، گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ، امن و امان، بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق معاملات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں 120 فیصد الاؤنس کی تجویز، سمری گورنر کو ارسال

ان مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت کے متعلقہ اداروں اور صوبے کے درمیان بہتر رابطہ کاری کی ضرورت پر بھی تفصیل سے بات چیت متوقع ہے۔

خیبرپختونخوا میں امن و امان کی نازک صورت حال کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی سطح پر مشترکہ اقدامات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

 دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی حکمت عملی کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں، بنیادی سہولتوں اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے، اور وزیراعظم کا یہ دورہ ان معاملات پر ترجیحات طے کرنے اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کا بہترین موقع فراہم کر سکتا ہے۔

 وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان مؤثر رابطہ کاری، سکیورٹی ضروریات کی تکمیل اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اس دورے کے بنیادی نکات ہوں گے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار طے کیے جانے والے فیصلوں پر بروقت عمل درآمد اور عملی نتائج پر ہوگا۔

Scroll to Top