آئندہ ہفتے عمران خان سے کون ملاقات کرے گا؟ بیرسٹر عقیل ملک نے سب راز فاش کر دیا

امریکہ کو معدنیات فروخت کرنے کا جھوٹ بے نقاب: پی ٹی آئی کے 13 سالہ دور میں جاری 4900 سے زائد لائسنسز جاری کرنے کا انکشاف

وزیراعظم کے معاون و ماہر قانون بیرسٹر عقیل نے خیبر پختونخوا کی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی نازک صورت حال پر کھل کر بات کی ہے اور مخالفین کے تمام تر پروپیگنڈے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی محرومیوں کے خاتمے کے لیے وزیراعظم کا کل کا دورہِ کے پی متوقع ہے، جس کے دوران صوبے کے لیے 137 ارب روپے کے خطیر ترقیاتی پیکیج کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔

 نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل نے معدنیات کے معاملے پر حکومت کے خلاف پھیلائے جانے والے من گھڑت بیانیے کو اکھاڑ پھینکا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر امریکہ کو معدنیات فروخت کرنے کا سراسر بے بنیاد اور من گھڑت الزام لگایا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ معدنیات کے حوالے سے کسی بھی غیر ملکی کمپنی سے کوئی معاہدہ طے ہی نہیں پایا۔ میں نے آج خود اس الزام کے ثبوت کا تقاضا کیا تو مخالفین کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

انہوں نے صوبے میں تاریخ کے اوراق الٹتے ہوئے انکشاف کیا کہ کے پی میں پہلے فضل الرحمان اور پھر گزشتہ 13 سالوں سے پی ٹی آئی اقتدار میں رہی۔ 2010 تک صوبے میں معدنیات کے 482 لائسنس جاری ہوئے تھے، جبکہ اکتوبر 2026 تک یہ تعداد چھلانگ لگا کر 4 ہزار 917 لائسنسز تک پہنچ چکی ہے اور اس وقت بھی 500 درخواستیں التوا کا شکار ہیں۔ نہ لیگ اور نہ ہی پیپلز پارٹی کے پی میں اقتدار میں رہی، اس لیے تین دن انتظار کر کے معدنیات کی جو من گھڑت داستان گھڑی گئی اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سیاسی رویوں اور احتجاجی تحریکوں پر پی ٹی آئی کی کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے 90 فیصد عوامی حمایت اور اسٹریٹ موومنٹ کا دعویٰ کرتے تھے، مگر جب وقت آیا تو کون سا عوام ان کے لیے سڑکوں پر نکلے؟ حکومت نے واضح کر رکھا تھا کہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر پرامن احتجاج اور اہم موضوعات پر بحث کریں، لیکن یہ لوگ پارلیمنٹ اور حقیقی سیاسی عمل میں برائے نام ہیں۔

پیپلز پارٹی بھی ان کا اپنا سیاسی کام کر رہی ہے۔ ان کی تمام تر سیاست اور نعرے بازی صرف804 یا 504 کو باہر نکال دو اور ‘ہم اڈیالہ جائیں گے تک محدود ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سينئر سیاستدان ہیں جن سے ہم سیکھتے ہیں لیکن غلط بات کو غلط کہنا ہماری آئینی ذمہ داری ہے۔ تین دن انتظار اور سیر حاصل گفتگو کے باوجود فضل الرحمان خود مشترکہ اجلاس میں موجود نہیں تھے۔

صوبے کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی اور لاقانونیت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل نے سوال اٹھایا کہ آخر شام کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کیوں نہیں جایا جا سکتا؟ کیوں یہ نوبت آئی کہ کے پی میں ریاست کی عملداری پر سوال اٹھیں؟

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کا باب ہمیشہ کے لیے بند، ٹرین اسٹیشن چھوڑ چکی: عطاء تارڑ کے سنسنی خیز انکشافات

انہوں نے کہا کہ انہی سنگین مسائل اور انتظامی ناکامی کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ اب صوبے میں ایک مضبوط ایڈوائزری کونسل (اے آر ڈی سی ) قائم کر دی گئی ہے، انسدادِ دہشت گردی کے اداروں اور خیبر پختونخوا پولیس کی صلاحیتوں کو ازسرِ نو جدید بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو امن و امان کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

Scroll to Top