50 لاکھ گھروں کے دعویداروں کی اپنی سیاست تاریخ کے ردی دان کی نذر ہو گئی

پشاور:  وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و خیبر پختونخوا امور اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سنجیدہ مذاکرات کی کھلی دعوت دی گئی تھی۔

 لیکن پی ٹی آئی نے اس اہم سیاسی موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ علیم عادل شیخ کے بیان کے مطابق بھی مذاکرات کی ناکامی میں 70 فیصد کردار خود پی ٹی آئی کا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے مانگے تانگے کی جماعت قرار دیا۔

 انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ادھر ادھر سے لا کر پی ٹی آئی کی عمارت کھڑی کی گئی تھی۔ سہیل آفریدی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا کوئی پلان کسی کے پاس نہیں ہے، کیونکہ درحقیقت ایسا کوئی پلان کبھی وجود ہی نہیں رکھتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : معدنیات پر صرف 3 دن تک من گھڑت کہانیاں بنائی گئیں، حقیقت عوام کے سامنے آ گئی

شوکت یوسفزئی کے حالیہ خط سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ خط کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے والی قیادت خود اپنی حکومت اور سیاست کو تاریخ کے ردی دان میں پھینک چکی ہے۔

پی ٹی آئی کے سابقہ دورِ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اس پارٹی نے عوام سے 50 لاکھ گھر بنانے اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کے بڑے بڑے دعوے کیے تھے، لیکن نہ کسی گورنر ہاؤس پر بلڈوزر چلا اور نہ ہی امیر و غریب کے درمیان فرق ختم ہو سکا۔

خیبر پختونخوا کی انتظامی صورتحال پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے انکشاف کیا کہ صوبے میں سیکریٹری سے لے کر کمشنر اور ڈی سی (ڈیپٹی کمشنر) تک ایک گٹھ جوڑ (نیکسس) بنایا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کا اصل اور اولین مقصد نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کرنا اور خیبر پختونخوا کو ہر قسم کی دہشت گردی سے پاک کرنا ہے۔ کے پی میں امن و استحکام کا قیام، دہشت گردی کا خاتمہ اور امن و امان کی بحالی ہی ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ممکنہ سیاسی کردار پر بات کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا مولانا فضل الرحمان کی اپنی سیاسی جماعت ہے اور ہماری اپنی، دونوں کے نظریات الگ ہو سکتے ہیں، تاہم دو قومی نظریے اور پاکستان کی سالالمیت پر ہم سب ایک ہیں۔

 ہم چاہتے ہیں کہ مولانا کے پی کی سیاست میں مثبت کردار ادا کریں اور پی ٹی آئی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پُر کریں۔

انہوں نے ایک بڑا سیاسی انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان خود خیبر پختونخوا کے گورنر بننا چاہیں تو اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکتا ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو بھی گورنرشپ دینے پر وفاق کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ خیبر پختونخوا میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کریں۔

Scroll to Top