اسلام آباد: قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں کے لیے بڑی اور خوش آئند خبر سامنے آ گئی ہے، وفاقی حکومت نے قومی بچت کی مختلف اسکیموں کے شرح منافع میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جس کا فوری اطلاق آج 21 اکتوبر 2026 سے کر دیا گیا ہے۔
محکمہ قومی بچت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی شرحِ منافع کے تحت بیواؤں، بزرگ شہریوں، پنشنرز، شہداء کے لواحقین اور عام سرمایہ کاروں کے لیے منافع کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹ کا شرح منافع 11.6 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کر دیا گیا ہے، جس میں پہلے پانچ منافعوں پر سالانہ 12 فیصد اور چھٹے و آخری منافع پر سالانہ 12.8 فیصد شرح مقرر کی گئی ہے، یوں ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر ہر چھ ماہ بعد بالترتیب 6 ہزار روپے اور آخری بار 6 ہزار 400 روپے منافع حاصل ہوگا۔
ریگولر انکم سرٹیفکیٹ کے شرح منافع کو 11.76 فیصد سے بڑھا کر 12.12 فیصد کر دیا گیا ہے جس کے تحت شہریوں کو ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر ماہانہ ایک ہزار 10 روپے ملیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : راجن پور انڈس ہائی وے پرٹریفک حادثہ، مسافر بس ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹنے سے 8 افراد جاں بحق، 32 زخمی
خاطر خواہ اضافہ بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ، پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ میں بھی دیکھنے میں آیا ہے، جہاں شرح منافع 12.72 فیصد سے بڑھا کر 12.96 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ کے تحت بیواؤں، بزرگ شہریوں اور جسمانی معذوری کے شکار افراد کو ایک لاکھ روپے پر ماہانہ ایک ہزار 80 روپے منافع ملے گا، جس میں کم از کم سرمایہ کاری 5 ہزار اور زیادہ سے زیادہ حد 75 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔
اسی طرح ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے لیے پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ اور شہداء کے اہل خانہ کے لیے شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ پر بھی ایک لاکھ روپے کے عوض ماہانہ ایک ہزار 80 روپے منافع دیا جائے گا، جن میں سرمایہ کاری کی حد 10 ہزار سے 75 لاکھ روپے تک مقرر ہے۔
ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹ پر منافع کی شرح کو مدت کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت 1 سال کے لیے 10 فیصد، 2 سال کے لیے 21 فیصد، 3 سال کے لیے 34 فیصد، 4 سال کے لیے 49 فیصد، 5 سال کے لیے 67 فیصد، 6 سال کے لیے 88 فیصد، 7 سال کے لیے 113 فیصد، 8 سال کے لیے 142 فیصد، 9 سال کے لیے 176 فیصد اور 10 سال کی کامل مدت پر 215 فیصد منافع فراہم کیا جائے گا۔
شارٹ ٹرم سیونگز سرٹیفکیٹس پر تین ماہ کے لیے سالانہ 11.12 فیصد (2,780 روپے فی لاکھ)، چھ ماہ کے لیے 11.50 فیصد (5,750 روپے فی لاکھ) اور ایک سال کے لیے 11.72 فیصد (11,720 روپے فی لاکھ) منافع کا تعاقب کیا گیا ہے، جبکہ رواں سیونگ اکاؤنٹ کی شرح منافع میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اسے سالانہ 10 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : گورنر راج کے بعد پشاور میں انتظامی تحرک: جمیل چوک انڈر پاس 15 نومبر کو کھولنے کا اعلان
اسلامی بینکنگ کے شعبے سروا اسلامی ٹرم اکاؤنٹ کے تحت ایک سالہ مدت پر متوقع سالانہ منافع 11.84 فیصد (11,840 روپے فی لاکھ)، تین سالہ مدت اور ششماہی ادائیگی پر 12.10 فیصد (6,050 روپے فی لاکھ) اور پانچ سالہ مدت پر ماہانہ ادائیگی کی بنیاد پر 12.12 فیصد (1,010 روپے فی لاکھ) مقرر کیا گیا ہے۔
مزید برآں سروا اسلامی سیونگ اکاؤنٹ پر متوقع سالانہ منافع کی شرح 11.84 فیصد اور ماہانہ متوقع منافع 973 روپے 15 پیسے فی ایک لاکھ روپے طے پایا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ تمام اسکیموں پر قواعد کے مطابق ودہولڈنگ ٹیکس، زکوٰۃ اور متعلقہ سروس چارجز کی کٹوتیوں کا اطلاق بدستور جاری رہے گا۔





