پشاور: خیبرپختونخوا میں امتحانی نظام کو شفاف بنانے اور نقل کلچر کے خاتمے کے لیے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے سخت اور گہرا انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے مؤثر مانیٹرنگ سکواڈز تشکیل دے دیے ہیں۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق یہ خصوصی سکواڈز امتحانی پرچوں کے آغاز سے بالکل قبل اچانک مراکز کا رخ کریں گے اور پرچہ ختم ہونے تک وہیں موجود رہ کر ایک ایک سرگرمی پر گہری نظر رکھیں گے۔
نئے لائحہ عمل کے تحت ان سکواڈز کی بنیادی ذمہ داری امتحانی مراکز میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی، نقل یا انتظامی کوتاہی کی فوری نشاندہی کرنا اور اس کی روک تھام کے لیے فوری اصلاحی اقدامات تجویز کرنا ہوگی۔
مانیٹرنگ سکواڈز اور متعلقہ تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کو امتحانی مراکز کی صورتحال پر روزانہ کی بنیاد پر تفصیلی رپورٹس ارسال کی جائیں گی تاکہ ہنگامی بنیادوں پر حالات کا جائزہ لے کر بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔
محکمہ تعلیم نے شفافیت کے تقاضوں کو مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مانیٹرنگ سکواڈز کا دائرہ کار صرف اور صرف امتحانی عمل کی نگرانی تک محدود رہے گا اور یہ عملہ معائنے کے دوران کسی بھی دوسری غیر متعلقہ سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا۔
یہ بھی پڑھیں : قومی بچت اسکیموں کے شرح منافع میں نمایاں اضافہ
مفادات کے ٹکراؤ کو روکنے کے لیے خصوصی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ سکواڈ کا کوئی بھی رکن ایسے امتحانی مرکز یا ہال کا دورہ نہیں کرے گا جہاں اس کا کوئی قریبی رشتہ دار یا عزیز امتحان دے رہا ہو، جس کا مقصد اس پورے عمل میں غیر جانب داری اور میرٹ کو ہر صورت برقرار رکھنا ہے۔
مزید برآں انتظامیہ نے خواتین کے امتحانی مراکز کی حرمت اور پردے کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے وہاں مرد افسران اور عملے کے داخلے اور دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا کہنا ہے کہ ان تمام سخت اقدامات کا واحد مقصد امتحانات کے انعقاد کو سو فیصد شفاف بنانا، طلبا کو یکساں تعلیمی ماحول فراہم کرنا اور امتحانی عمل سے ہر قسم کی بے ضابطگیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے۔





