13 سالہ جھوٹ، فریب اور سیاسی ڈرامے بازی کا غرور خاک میں مل گیا، بااختیار ایڈوائزری کونسل کا بنوں کے لیے تاریخی خوشحالی کا اعلان

بنوں: جنوبی خیبرپختونخوا کے غیرت مند عوام نے بدعنوانی، ناکامی اور زوال کے 13 سالہ تاریک دور کو ہمیشہ کے لیے کوڑے دان میں پھینک دیا ہے، اور صوبے میں گورنر راج اور ہنگامی حالات (ایمرجنسی) کے نفاذ کے بعد امن و ترقی کا نیا سورج طلوع ہو گیا ہے۔

 بنوں سمیت جنوبی اضلاع کے شہریوں نے صوبائی انتظامیہ کے گرینڈ گورننس ایکشن کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے سڑکوں کی فوری تعمیرِ نو، تباہ حال صحت اور مفلوج تعلیم کے شعبوں کی ہنگامی بحالی کے لیے گورنر کے تاریخی فیصلوں پر کامل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

 عوام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 13 سال تک صوبے کو نااہلی، لوٹ مار اور انتظامی تباہی کے اندھیروں میں دھکیلا گیا، مگر اب طاقتور گورنر راج اور بااختیار ایڈوائزری کونسل کی آمد کے ساتھ ہی واقعی عوامی حکومت اور حقیقی ترقی کا آغاز ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں امتحانی مراکز سے متعلق سخت فیصلہ

شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ نئی تشکیل کردہ ایڈوائزری کونسل میں شامل جرات مند، قابل اور انتہائی تجربہ کار ارکان ماضی میں بھی شاندار کارکردگی ثابت کر چکے ہیں اور ان کی بحالیِ امن و گورننس کے عمل میں شمولیت نے 13 سالہ تاریک دور کی جگہ امید، استحکام اور خوشحالی کے ایک روشن دور کی بنیاد رکھ دی ہے۔

بنوں کے غیور شہریوں کے مطابق ایک طویل عرصے بعد عوامی فنڈز کی بروقت اور شفاف فراہمی ممکن ہو رہی ہے، جس کے باعث برسوں سے نظرانداز کیے گئے انفراسٹرکچر، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔

 عوام نے واضح کیا کہ گورنر راج کے تحت ہنگامی اور تیز رفتار انتظامی فیصلوں سے نہ صرف جنوبی اضلاع بلکہ پورے خیبرپختونخوا میں امن، ڈسپلن اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے اور عوام کا کھویا ہوا اعتماد پوری طرح بحال ہو گیا ہے۔

Scroll to Top