اردوان اور مارک کارنے کی تاریخی ملاقات:آزاد تجارتی معاہدے کا اعلان،واشنگٹن پریشان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھاری ٹیرف (محصولات) کی دھمکیوں اور کینیڈا کی خودمختاری پر متنازع بیانات کے بعد عالمی معاشی و سیاسی میدان میں ایک بڑا زلزلہ آ گیا ہے۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنے نے امریکہ پر معاشی انحصار کم کرنے کے لیے ترکیہ کا ہنگامی اور تاریخی دورہ کیا ہے جہاں انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ایک انتہائی اہم اور بااثر اجلاس منعقد ہوا۔

اس تاریخی ملاقات کے دوران کینیڈا اور ترکیہ نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو باقاعدہ اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے معاہے پر اتفاق کر لیا ہے۔

اس پیشرفت کے تحت دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے )کے باقاعدہ مذاکرات کا پہلا دور اگلے ماہ شروع ہو جائے گا۔ اس اہم اقدام کا بنیادی مقصد تجارت، سرمایہ کاری، اور اقتصادی تعاون کے نئے دروازے کھولنا ہے۔

دونوں طاقتور ممالک کے درمیان طے پانے والے اس جامع معاہدے کا دائرہ کار صرف تجارت تک محدود نہیں رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں : ترکیہ نے دفاعی اخراجات میں بڑا اضافہ کردیا ،بڑی وجہ سامنے آگئی

اس معاہدے کے تحت دفاع، قومی سلامتی، جوہری توانائی ،اہم معدنیات اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سمیت متعدد سٹریٹجک شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

عالمی ماہرین کے مطابق کینیڈین وزیراعظم کا انقرہ کا یہ پہلا دوطرفہ دورہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کینیڈا اب امریکی من مانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی سطح پر نئے تجارتی اور دفاعی بلاک قائم کر رہا ہے، جس نے واشنگٹن کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

Scroll to Top