خیبر پختونخوا پولیس میں پانچ ہزار نئے کانسٹیبل بھرتی کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ بھرتیوں کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے خصوصی فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
مجوزہ بھرتیوں میں مختلف اضلاع کے لیے کوٹہ مختص کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بھرتیوں کے لیے صوبے کے بندوبستی علاقوں، جنوبی اضلاع اور مخصوص 12 اضلاع کو مدنظر رکھتے ہوئے کوٹہ مختص کیا جا رہا ہے۔
مجوزہ تقسیم کے تحت پشاور کے لیے دو ہزار سے زائد، جنوبی اضلاع کے لیے دو ہزار جبکہ دیگر علاقوں کے لیے ایک ہزار اسامیاں مختص کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھرتیوں میں شہدا کوٹے کے تحت دورانِ ملازمت وفات پانے والے پولیس اہلکاروں کے بچوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: یہ سیاسی لڑائی نہیں بلکہ ہم سب کی بقا کی جنگ ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، ثمر ہارون بلور
اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ کے بعد وفات پانے والے پولیس ملازمین کے بچوں کو بھی مجوزہ بھرتیوں میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق صوبے میں پولیس اہلکاروں کی کمی پوری کرنے اور امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے پانچ ہزار نئی بھرتیوں کی ضرورت ہے، جس کے لیے وفاقی حکومت خصوصی فنڈز فراہم کرے گی۔
مجوزہ بھرتیوں سے پولیس فورس کی نفری میں اضافہ ہوگا اور مختلف علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے افرادی قوت کی کمی دور کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں کے لیے کوٹے کی تقسیم کا عمل جاری ہے، تاہم بھرتیوں کے حتمی شیڈول، درخواستیں جمع کرانے کی تاریخ اور انتخاب کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔





