مولانا فضل الرحمن کے خلاف آوازیں کیوں اٹھیں؟جے یو آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کو ہنگامی احکامات

 ایکس (ٹوئٹر) اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف اٹھنے والی شدید عوامی تنقید، اثاثوں اور کرپشن سے متعلق سوالات کے بعد جماعت میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ 

عوام کے سخت احتساب اور سوالات سے بچنے کے لیے جے یو آئی کی اعلیٰ قیادت نے اپنی سوشل میڈیا برگیڈ کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر میدان میں اترنے کا حکم دے دیا ہے۔

جمعیت علماء اسلام فاٹا کے کوآرڈینیٹر ڈیجیٹل میڈیا سیل خالد جان داوڑ کی جانب سے جاری کردہ ایک خصوصی اور ہنگامی مراسلے میں اعتراف کیا گیا ہے کہ گزشتہ چند ایام سے سوشل میڈیا بالخصوص ایکس (ٹوئٹر) پر مولانا فضل الرحمان کے خلاف سخت اور نامناسب زبان استعمال کی جا رہی ہے۔

مراسلے میں تمام اضلاع، تحصیلوں، مجالسِ شوریٰ اور نچلی سطح کے ڈیجیٹل کوآرڈینیٹرز اور سوشل میڈیا ورکرز کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کسی بھی تاخیر کے بغیر ایکس پر متحرک ہوں، جاری ٹرینڈز میں حصہ لیں اور جماعت کے بیانیے کو دفاعی انداز کے بجائے منظم انداز میں آگے بڑھائیں۔

یہ بھی پڑھیں : سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریزکیلئےقومی اسکواڈ کا اعلان

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سوشل میڈیا پر پاکستانی عوام کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے اثاثوں اور نیب کی بازپرس پر مسلسل اٹھائے جانے والے سوالات سے پارٹی پر شدید دباؤ بنا ہوا ہے جس کے بعد جماعت کو اپنے ڈیجیٹل پیادوں کو میدان میں اتار کر اپنی ڈوبتی پتوار بچانے کے لیے یہ خصوصی آرڈر جاری کرنا پڑا ہے۔

Scroll to Top