مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا کی سیکیورٹی کو مزید سخت بنانے کے لیے ایک تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت سعودی عرب کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے خطے کے اہم ترین ملک مصر نے باضابطہ شمولیت کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مصری پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے لیے فوجی اور دفاعی امداد کی فراہمی کی منظوری دیدی ہے جس کے بعد ریاض کی کسی بھی ہنگامی درخواست پر قاہرہ فوری طور پر اپنی فوجی معاونت فراہم کرنے کا پابند ہو گا۔
اس اہم دفاعی پیشرفت کی بنیاد مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی اس درخواست پر رکھی گئی جس میں انہوں نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی سرحدوں اور سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے پارلیمان سے اجازت مانگی تھی۔
پارلیمنٹ کی جانب سے اس منظوری کے بعد عرب دنیا کی دو سب سے بڑی طاقتوں کے درمیان دفاعی اشتراک ایک نئے اور مضبوط ترین مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مذاکرات کامیاب، ضلع مہمند میں تجاوزات کیخلاف آپریشن 3 روز کے لیے مؤخر
ماہرین کے مطابق مصری افواج کی اس ممکنہ دفاعی شمولیت سے نہ صرف سعودی عرب کا ملٹری نظام مزید مستحکم ہوگا بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی مملکت کے حق میں مزید مضبوط ہو کر ابھرے گا۔





